بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی طالبہ کا بڑا کارنامہ اے سی سی اے امتحان میں ریکارڈ نمبر حاصل

datetime 16  فروری‬‮  2021 |

لاہور(آئی این پی )پاکستانی طالبہ زارا نعیم کو دسمبر2020میں ہونے والے اے سی سی اے(ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکائونٹنٹس) کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر گلوبل پرائز ونر قرار دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے اسکانز اسکول آف اکانٹینسی کی طالبہ زارا نعیم نے اے سی سی اے کے تمام طلبہ میں فنانشنل رپورٹنگ کے امتحان

میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔ خیال رہے کہ اکانٹینسی کے شعبے میں اے سی سی اے کی تعلیم کو عالمی معیار تصور کیا جاتا ہے اور دنیا کے 179ممالک میں اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔ ملک کا نام روشن کرنے پر حکومت پاکستان کی جانب سے بھی زارا نعیم کی کامیابی کو سراہا گیا ہے اور انہیں مبارکباد دی گئی ہے۔حکومت پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکائونٹ سے کی گئی ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘پاکستان کو فخر ہے کہ زارا نعیم کو اے سی سی اے میں سب سے زیادہ نمبر لینے پر گلوبل پرائز ونر قرار دیا گیا ہے ۔وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بھی ٹوئٹ میں کہا کہ دنیا بھر میں اے سی سی اے امتحان میں ٹاپ کرکے زارا نعیم ڈار قوم کا فخر بن گئی ہیں۔ زارا نعیم نے اپنی کامیابی کی وجہ اپنے والد کو قرار دیا ہے جو ہمیشہ خاندان کی تمام لڑکیوں کو اپنے خوابوں کو پورا کرنے اور مصنوعی رکاوٹوں کو توڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے والد نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور وہ ماضی میں فوج میں بھی خدمات

سرانجام دے چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ملک کا نام روشن کریں۔زارا نعیم نے کہا کہ میرے والد میرے لیے رول ماڈل ہیں، میںنے انہیں فوج میں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے دیکھا جس سے متاثر ہوکر میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کی ۔ اے سی سی اے کا انتخاب

کرنے پر زارا نعیم نے کہا کہ یہ میرا فطری انتخاب تھا، اکثر فوجی خاندان چند سالوں بعد دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں تو میں ہمیشہ سے جانتی تھی کہ مجھے ایک ایسی تعلیم کی ضرورت ہے کہ عالمی سطح پر کہیں بھی جایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مفروضے کو ختم کرنا چاہتی تھیں کہ فنانس اور اکائونٹینسی مردوں کے لیے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…