منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین اورپولیس کے درمیان جھڑپ ، نواز شریف بھی میدان میں آگئے

datetime 10  فروری‬‮  2021 |

لندن(آن لائن )سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ اڑھائی سال سے سیلیکٹڈ نااہل حکومت عوام پرمہنگائی کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔غربت اور فاقہ کشی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں نوازشریف نے سرکاری ملازمین کے احتجاج پر تشدد کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے کہا مہنگائی رکنے کا نام نہیں لے رہی مگر حکومت بجائے

ملازمین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے، ان پر ڈنڈے برسا رہی ہے۔کیا عمران خان اور اس کو مسلط کرنے والے جرنیل جواب دیں گے؟۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدراور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں سرکاری ملازمین پر تشدد اور آنسو گیس کی شیلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی چوک اسلام آباد کے مناظر دیکھ کر شدید تکلیف ہوئی،عمران خان عوام کے استحصال کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ ایک بیان میں سابق صدر نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرنے والے سرکاری ملازمین سے دشمنوں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ عمران نیازی اقتدار میں آکر کرے گا کیا؟ اس کا جواب سامنے ہے کہ عمرا ن خان عوام کے استحصال کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ انہیں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے تکلیف ہو رہی ہے۔ سرکاری ملازمین کے معاشی استحصال سے ملک ترقی نہیں کرے گا۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ چھوٹے اسکیل کے ملازمین غربت کی لکیر سے بھی نیچے آچکے ہیں۔ وہ اپنے گھروں کا کرایہ دیں، یا بچوں کی فیس جو ان کی اس تنخواہ سے ممکن نہیں ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے مشکل حالات کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ کیا تھا جو سرکاری ملازمین کا حق تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…