بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

لوگ سمجھتے ہیں عدالتیں صرف تقریر کرتی ہیں  سندھ ہائیکورٹ پولیس کی ناقص کارکردگی پر شدید برہم

datetime 8  فروری‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے کیسز کی پیروی بند کر دی ہے، لوگ سمجھتے ہیں عدالتیں صرف تقریر کرتی ہیں۔لاپتہ افراد کی

بازیابی کی درخواستوں کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی جس میں عدالت نے پولیس رپورٹس پر اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیئے کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے کیسز کی پیروی بند کر دی ہے۔جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا جے آئی ٹیز اور پولیس کی کارکردگی سے اعتماد اٹھ رہا ہے، تفتیشی افسر ہر بار کمپیوٹر سے نیا پرنٹ نکال کر لے آتے ہیں۔جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس تفتیش ہی نہیں کرتی، پولیس کی کارکردگی سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ پریشان ہیں۔عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آخری سماعت کے بعد لاپتہ افراد کے معاملے پر کیا کیا؟ جس پر تفتیشی افسرنے بتایا کہ حراستی مراکز سے رپورٹس لینے کیلئے خط لکھے تھے جواب نہیں آیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے خط کا جواب نہیں آیا اس لیے دوسرا خط نہیں لکھا۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر جے ٹی ٹیز سربراہ کو طلب کرلیا اور کہا کہ جے آئی ٹیز سربراہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اور انہوں نے لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگایا گیا تو تنخواہ بند کردی جائے گی۔جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ یہ ہے کارکردگی؟ ابھی تفتیشی افسر کو جیل بھیج دیتے ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ آخری بار مہلت دیں، دوبارہ رپورٹس طلب کرلیتے ہیں۔عدالت نے سماعت کے دوران لاپتہ فرید احمد کی گمشدگی کے معاملے پر وفاقی سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…