منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

لوگ سمجھتے ہیں عدالتیں صرف تقریر کرتی ہیں  سندھ ہائیکورٹ پولیس کی ناقص کارکردگی پر شدید برہم

datetime 8  فروری‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے کیسز کی پیروی بند کر دی ہے، لوگ سمجھتے ہیں عدالتیں صرف تقریر کرتی ہیں۔لاپتہ افراد کی

بازیابی کی درخواستوں کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی جس میں عدالت نے پولیس رپورٹس پر اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیئے کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے کیسز کی پیروی بند کر دی ہے۔جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا جے آئی ٹیز اور پولیس کی کارکردگی سے اعتماد اٹھ رہا ہے، تفتیشی افسر ہر بار کمپیوٹر سے نیا پرنٹ نکال کر لے آتے ہیں۔جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس تفتیش ہی نہیں کرتی، پولیس کی کارکردگی سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ پریشان ہیں۔عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آخری سماعت کے بعد لاپتہ افراد کے معاملے پر کیا کیا؟ جس پر تفتیشی افسرنے بتایا کہ حراستی مراکز سے رپورٹس لینے کیلئے خط لکھے تھے جواب نہیں آیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے خط کا جواب نہیں آیا اس لیے دوسرا خط نہیں لکھا۔عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر جے ٹی ٹیز سربراہ کو طلب کرلیا اور کہا کہ جے آئی ٹیز سربراہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اور انہوں نے لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگایا گیا تو تنخواہ بند کردی جائے گی۔جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ یہ ہے کارکردگی؟ ابھی تفتیشی افسر کو جیل بھیج دیتے ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ آخری بار مہلت دیں، دوبارہ رپورٹس طلب کرلیتے ہیں۔عدالت نے سماعت کے دوران لاپتہ فرید احمد کی گمشدگی کے معاملے پر وفاقی سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…