بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

درخواستیں دے دے کر تھک گیا، ایم فل پاس نوجوان چوکیداری کرنے پر مجبور

datetime 8  فروری‬‮  2021 |

ملتان(این این آئی)ایم فل کرنے والانوجوان بیروزگاری سے تنگ آ کر چوکیدار بن گیا۔ اکنامکس میں ایم ایس سی اورایم فل کرنے کے بعد ملتان کے نوجوان کو نوکری نہ مل سکی تو اس نے مجبوری میں چوکیداری شروع کردی۔ 28 سالہ احسان نے جامعہ بہااؤلدین زکریا سے اکنامکس میں ماسٹرز اور پھر ایم فل کیا۔احسان کا کہنا ہے کہ

ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جہاں اس نے ملازمت کے لیے درخواست نہ دی ہو۔ دوسری جانب پنشن کے بغیر سرکاری نوکری کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے آئندہ سال سے صوبائی اور وفاقی محکموں کے ملازمین کیلئے پنشن کے موجودہ نظام کی جگہ نیا نظام متعارف کرایا جائے گا خیبر پختونخوا کی جامعات میں یہ پالیسی پہلے سے ہی نا فذ العمل کر دی گئی ہے جبکہ مرحلہ وار طور پر صوبے کے مختلف اداروں میں بھی یہ پالیسی مرتب کرنے پر غور کیا جارہاہے ذرائع کے مطابق پنشن کی نئی کنٹربیوٹری فنڈ سکیم کا اطلاق نئے بھرتی ہونیوالے سرکاری ملازمین پر ہوگا اس سے موجودہ سرکاری ملازمین متاثر نہیں ہونگے، نئے نظام پر پے اینڈ پنشن کمیشن کام کررہا ہے، ذرائع کے مطابق موجودہ سرکاری ملازمین کیلئے پے اینڈ پنشن کا موجودہ نظام جاری رہے گا اور موجودہ سرکاری ملازمین متاثر نہیں ہونگے تاہم نئے بھرتی ہونیوالے سرکاری ملازمین کیلئے پنشن فنڈز تشکیل دیا جائے گا یہ فنڈ کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ کہلائے گا، اس فنڈ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے بھی رقم شامل کی جائے گی، کنٹریبویٹری پنشن فنڈ میں حکومت کی جانب سے بھی سیڈ منی رکھی جائے گی جبکہ سرکاری ملازمین کی جانب سے دو طرح کی پنشن کیلئے کنٹربیوشن میکنزم ہونگے، ایک کنٹربیوشن براہ راست پنشن فنڈ میں

جائے گی جبکہ دوسری کنٹری بیوشن سرکاری ملازمین کے اپنے اکاؤنٹ میں جمع ہوگی جو ریٹائرمنٹ کے وقت اس کو پنشن کی مد میں جاری کر دی جائیگی، ذرائع کے مطابق پنشن فنڈ کی رقم سے سرمایہ کاری بھی کی جائے گی تاکہ اس میں اضافہ ہو اور پنشن کا براہ راست بوجھ قومی خزانے پر ختم کیا جائے، ذرائع کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کی پنشن کا بل 470ارب روپے ہے اور تنخواہوں سمیت 1100ارب روپے کا قومی خزانے پر بوجھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…