بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

شہبازشریف کی ایمانداری پرکیچڑ اچھالنے والوں کے سیاہ چہروں کی کالک میں مزید اضافہ ہوگیا، ن لیگ نے عدالتی فیصلے کے بعد شہباز شریف کی رہائی کا مطالبہ کر دیا

datetime 5  فروری‬‮  2021 |

لاہور(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ڈیلی میل ہتک عزت کیس میں فیصلہ آنے کے بعد شہبازشریف کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔جاری ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا لندن کی عدالت کا فیصلہ شہبازشریف کی بے گناہی اور عمران صاحب کے مصدقہ جھوٹے ہونے کی بین گواہی ہے۔شہبازشریف کی

ایمانداری پرکیچڑ اچھالنے والوں کے سیاہ چہروں کی کالک میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ لندن کی عدالت سے شہبازشریف کی سچائی کی گواہی آئی۔لندن عدالت کے فیصلے کے بعد کچھ بھی شرم ہوتو عمران صاحب اور کرائے کے ترجمان معافی مانگیں۔لندن عدالت نے کہا کہ برطانوی قانون کے مطابق شدید ترین درجے میں شہبازشریف کو بدنام کیاگیا۔برطانوی جج نکلین نے قرار دیا کہ شہبازشریف کے خلاف برطانوی ہتک عزت کے قانون کے اول درجے کا جھوٹ بولاگیا۔برطانوی جج نکلین نے قرار دیا کہ شہبازشریف کے خلاف ڈیلی میل نے سراسر جھوٹ اور مفروضے پر مبنی خبر شائع کی، کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا عمران صاحب اپنے سیاسی انتقام، حسد اور جھوٹ کی آگ سے پاکستان کی جو ہتک آپ نے کرائی، اس کا ازالہ کون کرے گا؟۔جھوٹے کاغذ لہرانے والوں میں زرا سی بھی شرم ہوتو برطانوی عدالت کے فیصلے کے بعد چلو بھر پانی میں ڈوب مریں۔شہزاد اکبر نے جو کاغذلہرائے تھے وہ لندن کی عدالت میں کیوں پیش نہیں کئے؟۔ثابت ہوا کہ جن کی اپنی کوئی عزت نہیں، ان کا کام صرف شرفاء کی عزت اور پگڑیاں اچھالنا ہے۔برطانوی عدالت کے فیصلے سے براڈ شیٹ کے کمشن خور شہزاد اکبر کے چہرے پر جھوٹ کی سیاہی میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔عمران صاحب

نے یہ جھوٹا انٹرویو خود کرایا تھا، عمران صاحب آپ کے ہر جھوٹ کا انجام انشاء اللہ ایسا ہی نکلے گا۔ عدل اور انصاف جب بھی ہوا، مسلم لیگ (ن) کی قیادت سرخروہوئی، انہیں جیل بھجوانے والے خود جیل گئے۔انشاء اللہ جب بھی عدل اور انصاف ہوگا، مسلم لیگ (ن) کی قیادت پھر سرخرو اور ان پر جھوٹ بہتان باندھنے والے جیل میں ہوں گے۔شہبازشریف کے دس ارب کے ہتک عزت کے مقدمے میں پانچ سال سے عمران صاحب مفرور ہیں۔پاکستان میں اس ہتک عزت کے مقدمے میں بھی انشاء اللہ عمران صاحب کا جھوٹ بے نقاب ہوکر رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…