بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

چوری کے الزام میں گرفتار تین خواتین پولیس کے تشدد کا نشانہ بن گئیں  ویڈیو وائرل ہونے پر ملوث اہلکاروں کیخلاف بڑا حکم جار ی کر دیا گیا

datetime 3  فروری‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات میں پولیس کی طرف سے چوری کے الزام میں گرفتار خواتین پر سر عام تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے اس واقعے کو شرمناک، پختون روایات کے منافی اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثناء وزیر اعلی کی ہدایت کی روشنی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات نے واقعے میں ملوث سیدو تھانے کے ایس ایچ او رفیع اﷲ سمیت دیگر اہلکاروں کو معطل کرکے لائن حاضر کردیا۔ معطل ہونے والے دیگر اہلکاروں میں سب انسپکٹر ایاز احمد، سپاہی محمد عالم، سپاہی اسحاق اور سپاہی فضل خالق شامل ہیں۔ ان معطل اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کردی گئی ہے۔دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سوات میں پولیس کی طرف سے چوری کے الزام میں گرفتار خواتین پر سر عام تشدد کے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے اس واقعے کو شرمناک، پختون روایات کے منافی اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثناء وزیر اعلی کی ہدایت کی روشنی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سوات نے واقعے میں ملوث سیدو تھانے کے ایس ایچ او رفیع اللہ سمیت دیگر اہلکاروں کو معطل کرکے لائن حاضر کردیا۔ معطل ہونے والے دیگر اہلکاروں میں سب انسپکٹر ایاز احمد، سپاہی محمد عالم، سپاہی اسحاق اور سپاہی فضل خالق شامل ہیں۔ ان معطل اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کردی گئی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…