منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر کا قوی امکان انعقاد میں سب سے بڑی رکاٹ سامنے آگئی

datetime 2  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل نہ کی جا سکیں،بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر کا امکان ہے،روزنامہ جنگ میں نسیم قریشی کی شائع خبر کے مطابق حکومت کا 25ہزار 240ویلج پنچایت نیبر ہڈ سیٹوں کو کم کرنے کا فیصلہ،ویلج پنچایت نیبر ہڈ کونسلز

کے نام رکھنے کی منظوری اور ان کی تعداد میں کمی کیلئے دوبارہ سے حلقہ بندیوں میں تاخیر اور کورونا وبا سمیت متعدد مسائل بلدیاتی انتخابات کی راہ میں بڑی رکاوٹوں کے باعث بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں مزید تاخیر ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے ممکنہ تیاریوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کہ بلدیاتی قانون 2019کے مطابق ابھی انتخابات ہونا ممکن نہیں ہیں۔ بہت ساری ضروری ترامیم ہونا باقی ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ پنجاب کے 36اضلاع کے دیہی اور شہری علاقوں میں پنجاب ویلج اینڈ پنچایت ایکٹ 2019کے تحت تقریبا 26ہزار 240بلدیاتی اداروں کی حلقہ بندی کی جانی تھیں جن کیلئے الیکشن کمیشن نے اگست 2020میں پنجاب کے ہر ضلع میں 3رکنی کمیٹی تشکیل دی تھیں۔ اس کمیٹی نے الیکشن کمیشن کی ہدایات اورقوانین کی روشنی میں حلقہ بندی کے عمل کو شروع کرنا تھا جس کیلئے الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول بھی جاری کیا گیا تھا اور بھرتی کی گئی۔ حلقہ بندیوں کی ستمبر

میں ابتدائی فہرست کی اشاعت کی جانی تھی جن کو کورونا وبا کے پیش نظر موخر کر دیا گیا تھا کہ فہرست آویزاں کرنے سے اتھارٹیز کے دفاتر میں رش لگ جاتا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اب حکومت نے 25ہزار 240ویلج پنچایت نیبر ہڈ سیٹوں کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چونکہ اس سے حکومتی خزانے پر بڑا بوجھ پڑنا تھا اب ان سیٹوں کو کم کرکے 8ہزار تک لانے کی تجویز ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک نئے سرے سے دوبارہ حلقہ بندیاں نہیں ہوتیں تو بلدیاتی انتخابات کا ہونا ناممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…