منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کے پاس اختیار ہی نہیں، فواد چوہدری کا حیران کن دعویٰ

datetime 1  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہاکہ31 جنوری کو بڑے لوگوں کے خواب چکنا چور ہوئے ہیں میں پہلے ہی کہتا تھا سب اپنی اپنی تنخواہ پر کام کریں گے،اپوزیشن کو دیوار سے لگانا حکومت کا موقف نہیں ہونا چاہیے،حکومت کو ہمیشہ اپوزیشن کو راستہ دینا چاہیے،بلاول اور مریم اب مل کر حکومت کیلئے بددعاؤں کی مہم چلائیں، اپوزیشن اور

حکومت کے درمیان تلخیاں ہیں ،ایسے میں مذاکرات نہیں ہو سکتے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا، اس موقع پر اسلام آبادبارکونسل کے چیئرمین ایگزیکٹوکمیٹی عادل عزیز قاضی، اسلام آباد ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدرحسیب چوہدری اور سیکرٹری سہیل اکبر چوہدری،نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم، سیکرٹری انور رضا، راولپنڈی اسلام آبادسپورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شاہ خالد، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے علی شیراور دیگر بھی موجودتھے، وفاقی وزیر نے کہاکہ میڈیا کا کردار ایک نیوٹرل ثالثی کا ہونا چاہیے، بھارتی پنجابی کسانوں کے ساتھ ہمارے دل دھڑک رہیہیں،بھارت کہہ رہا ہے پاکستان نے لاکھوں کسان باہر نکالے ہیں،اگر پاکستان کا اتنا اثر وہاں ہے تو بھارت کو پھر ڈر کر رہنا چاہیے،ہٹلر کی طرز پر مودی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے، انہوں نے کہاکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق کے لئے جو مسائل پیدا ہوئے ان پر بحث ہی کہیں نہیں،ہسپتالوں ، سکولوں کے مسائل اب صوبائی معاملات ہو چکے ہیں،وفاقی حکومت سے سندھ کو دو سال میں سولہ سو ارب منتقل ہوئے،پنجاب ، کے پی اور بلوچستان کو بھی رقوم منتقل ہوئیں،اب انڈے ، دودھ مہنگے ہیں تو یہ کس نے کنٹرول لرنا ہے وزیراعظم کے پاس اختیار ہی نہیں،سندھ کے وزیراعلی کہتے ہیں وہ وزیراعطم کو جوابدہ ہی نہیں،جب وزیراعلی وزیراعطم کو جوابدہ نہیں تو وفاق کیسے چلے گا، فواد چوہدری نے کہاکہ گندم ، پانی کی سبسڈی صرف پنجاب برداشت کر رہا ہے، نوازشریف اٹھارہویں ترمیم پر صرف تیسری بار وزیراعطم بننے کے لئے دستخط کئے،نوازشریف نے صرف اس مقصد کے لئے پنجاب کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا، انہوں نے کہاکہ بری گورننس کی ذمہ داری آج وفاق پر نہیں صوبوں پر ہے،عام شہری کو کیسے فائدہ پہنچانا ہے یہ سوچنا چاہیے، بلاول اور مریم مل کر حکومت کے لئے بددعاوں کی مہم چلائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…