منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی وزیرکا وی وی آئی پی پروٹوکول،زبردستی دکانیں بھی بند کر ا دی گئیں

datetime 30  جنوری‬‮  2021 |

سکھر(آن لائن) سکھرمیں وفاقی وزیر کا وی وی آئی پی پروٹوکول میں دورہ معصوم شاہ مینارا، انتظامیہ نے دکانیں بند کرادیں،تاجر دکانوں کے باہر وفاقی وزیر کے جانے کا انتظار کرتے رہے، وفاقی وزیر شفقت محمود نے صورتحال سے لاعلمی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی جانب سے آج سکھر

میں تاریخی ورثہ میر معصوم شاہ منارہ کے دورے کے موقع پر ان کی آمد سے قبل ہی سکھرکی انتظامیہ نے پھرتی دکھاتے ہوئے میر معصوم شاہ مینارہ کے قریب واقع کاروباری مرکز میں تاجروں کو دکانیں تک کھولنے نہ دیں اور جب تک وفاقی وزیر آئے اور اپنا دورہ مکمل کرکے واپس روانہ نہ ہوئے اس وقت تک دکاندار اپنی دکانوں کے باہر کھڑے رہے انہیں دکانیں کھولنے نہ دی گئیں اس موقع پر تاجروں کا کہنا تھا کہ ہم روزانہ نو بجے دکانیں کھولتے ہیں آج وفاقی وزیر صاحب کی آمد کی وجہ سے ہمیں دکانیں تک کھولنے نہیں دی گئیں ہیں دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر شفقت محمود نے صورتحال سے لاعلمی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ انہیں پتہ نہیں کہ ان کے دورے کی وجہ سے دکانیں کیوں بند کرائی گئی ہیں میں نے تو انتظامیہ کو صرف میر معصوم شاہ کے مینارے کے دورے کا کہا تھا۔ دوسری جانب وفاقی وزیرتعلیم اورقومی ورثے شفقت محمودنے عمران خان کے بیان کہ وضاحت کردی اور کہتے ہیں کہ عمران خان کے کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ سندھ ہمارا حصہ نہیں ہے بلکہ یہ مطلب تھا کہ سندھ میں ہماری جماعت کی حکومت نہیں ہے اور جمہوریت میں ہوتاہے کہ کسی صوبے میں وفاقی جماعت کی حکومت نہیں بھی ہوتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھرمیں تاریخی میر معصوم شاہ مینارہ کے

دورے کے موقع پر میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کیا ان کا کہنا تھا کہ سندھ ہمارا صوبہ ہے اور سندھ پاکستان کا حصہ ہے ہم اس سے پیار اور محبت کرتے ہیں میں یہاں تین دن سے سندھ کے دورے پر ہوں مختلف مقامات پر جارہاہوں لوگوں سے مل رہاہوں یہاں آکر ہمارے دل کو خوشی اور اطمینان محسوس ہوتا ہے سندھ کی تاریخ اور ورثہ قابل

دیدہے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سکھرکے دورے کا بنیادی مقصدیہاں پر موجود تاریخی ورثہ کا جائزہ لینا ہے ہم اس تاریخی ورثہ کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم اپنے ماضی کو یاد رکھ سکیں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 27 جنوری کو اجلاس کیا تھا اور یکم فروری سے ملک بھرکے تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں گے ہم۔تعلیمی ادارے

کھلنیکے ساتھ ساتھ کورونا صورتحال کا بھی جائزہ لیتے رہیں گے ہم سمجھتے ہیں کہ تعلیمی ادارے کھولنے کا وقت آگیاہیکیونکہ کرونا میں ہماری تعلیم کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اس لیے خواہش اور کوشش ہوگی کہ جس قدر جلدہوسکے ہم اس کا ازالہ کریں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا پاکستان میں کرپشن ہائی گریڈ پر رہی ہے

جس کی بڑی وجہ ہمارے لیڈران کرام کی جانب سے اپنے ذاتی مفادات اور لوٹ مار پر زیادہ اور عوام کی خدمت پر کم توجہ دینا ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے اس وقت پاکستان میں ایک ایسا وزیراعظم ہے جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا حکومت دن رات حکومت عوام کی خدمت کیلیے کوشاں ہے ملک سے لوٹ مار کا دور ختم ہوچکاہے لیکن احتساب ہونا باقی ہے جن لوگوں نے قوم کے ساتھ زیادتی کی ہے یہاں کے عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر باہر جائیدادیں بنائی ہیں ان کا احتساب ہونا ابھی باقی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…