پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

صوبائی حکومت کا ضرورت سے زیادہ سکولوں کو سسٹم سے نکالنے کا اعلان

datetime 28  جنوری‬‮  2021 |

کراچی (آن لائن ) وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایسے تمام اسکولوں کو سسٹم سے نکال دیا جائے ۔جہاں ضرورت سے زیادہ اسکول موجود ہیں۔ صرف وہ اسکول سسٹم میں رکھے جائیں جہاں بچوں کی انرولمینٹ 30  یا اس سے زائد ہو۔ یہ بات انہوں نے

جمعرات کے روز اپنے دفتر میں محکمہ اسکول ایجوکیشن کا اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری اسکول ایجوکیشن احمد بخش ناریجو، ایم ڈی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن قاضی کبیر و دیگر افسران شریک تھے۔ اجلاس میں صوبے بھر کی موجودہ تعمیر شدہ اسکولز کے لیے SEMIS Code پالیسی پر دوبارہ غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ اس پالیسی پر غور سالانہ اسکول شماری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسکولز کو گوگل میپ پر لوکیٹ کردیا گیا ہے، جس سے باآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ دو کلومیٹر کے رقبے میں کتنے اسکولز واقع ہیں اور اس سے بآسانی اس بات کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس اسکول کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ اس علاقے سے بچوں کا اسکول سے نکلنے کو روکا جاسکے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر نے افسران پر زور دیا کہ صوبے بھر میں غیر ضروری اسکولز کو وہاں موجود دوسرے اسکولز میں ضم کیا جائے۔   ایسے تمام اسکولز جو گھوسٹ ہوں ان کو سسٹم سے نکالا جائے تاکہ ان اسکولز کے وسائل دوسرے اسکولز میں بروئے کار لائے جاسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…