منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کاویژن ، ترکی ،کنیڈا کی ٹاپ یونیورسٹیوں نے کم وسیلہ پاکستانی طلباء کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 28  جنوری‬‮  2021 |

راولپنڈی (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت تخفیف غربت اوراس پروگرام کو سپورٹ کرنے والے لوازمات کے فروغ کے سلسلے میں ترکی اور کنیڈا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں کم وسیلہ ہونہار پاکستانی طلبہ کوکم بجٹ کے اندر اعلی و معیاری تعلیم و تربیت دینے کے

معاہدے طے پا چکے ہیں ۔ اعلی و معیاری تعلیمی سہولیات کے مقابل طلبہ کی زیادہ تعداد اور نجی سیکٹر میں مہنگے اخراجات کی بدولت ملک کے اندر داخلوں سے محروم رہ جانے والے طلبہ ان سہولیات سے استفادہ کرکے اپنے خوابوں کو تعبیر دے سکتے ہیں ۔ یہ بات اووسیز پاکستانیوں کے روزگار اور حقوق کے محافظ ادارے نائٹ ہیومن مینجمنٹ (کے ایچ ایم ) شالان پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد نواز نے کے ایچ ایم کی ٹاپ مینجمنٹ کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل یونیورسٹی سسٹمز کی کینیڈا میں موجود یونیورسٹیوں ٹریباس (TREBAS)یونیورسٹی اور گسما (GISMA)بزنس سکول یونیورسٹی اور ترکی کی سائنس یونیورسٹی انقرہ کے ساتھ کے ایچ ایم کے معاہدوں سے ہمارے کم وسیلہ طلبہ کے لئے سستی اعلی تعلیم ممکن بن چکی ہے اس سے انہیں بھر پور استفادہ کرنا چائیے ۔ خالد نواز نے کہا کہ اعلی تعلیم اور فنون کی ڈگریوں کا حصول طلبہ کو عالمی مارکیٹ جاب میں باعزت اور معقول روزگار دینے کی ضمانت ہے ۔ ان یونیورسٹیوںکے ساتھ معاہدے ہماری بڑی کامیابی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی صنعتی و تجارتی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی ڈگریوں کے پروگرامز میں داخلے کے خواہشمند طلبہ کو کے ایچ ایم کے تحت پوری کونسلنگ بھی دی جائیگی ۔ خالد نواز نے کہا کہ صنعت و تجارت ، زراعت ، میڈیکل ، ٹرانسپورٹ اور دیگر تمام شعبوں میںجدید ٹیکنالوجی کا عمل دخل بہت بڑھ چکا ہے اور اقوام عالم بالخصوص یورپ میں تعلیمی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔ اب ایسی افرادی قوت تیار کی جا رہی ہے جو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر نئی ٹیکنالوجیز پر چلنے والے تمام شعبوں میں ماہرین کے طور پر خدمات انجام دے سکے ۔ ہم ابھی اس میں دنیا کے مقابلے میں پیچھے ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ ان یونیورسٹیوں کے ساتھ مذکورہ معاہدے ہمہ جہت فوائد کو پیش نظر رکھ کر کئے گئے ہیں ۔ ہمارے ہونہار طلبہ کم تعلیمی بجٹ کے ساتھ جدید ضروریات سے ہم آہنگ عام و فنی تعلیم حاصل کر پائیں گے اور ان کی نکھری ہوئی صلاحیتوں سے ملک کے اندر جدید علوم و فنون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح عالمی جاب مارکیٹ میں ہمارے نوجوانوں کو باعزت اور معقول روزگار ملنے سے غربت میں کمی اور ملک کو قیمتی زرمبادلہ ملے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…