منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

بے حسی کی انتہا، نجی ہسپتال کی انتظامیہ علاج سے پہلے پیسے کا مطالبہ کرتی رہی زخمی حالت میں لائی جانیوالی نوجوان لڑکی نے تڑپ تڑپ کر جان دیدی

datetime 26  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے سچل گوٹھ میں واقع نجی اسپتال میں زخمی حالت میں لائی جانے والی نوجوان لڑکی کو طبی امداد دینے کے بجائے اسپتال انتظامیہ پہلے پیسے جمع کرانے کا مطالبہ کرتی رہی، بر وقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے موٹر سائیکل سے گر کر زخمی

ہونے والی لڑکی جاں بحق ہو گئی۔سندھ حکومت کے انجرڈ پرسن ٹریٹمنٹ امل عمر بل 2019 کو نجی اسپتال خاطر میں نہ لاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، سچل گوٹھ میں واقع نجی اسپتال کی بے حسی نوجوان لڑکی کی موت کا سبب بن گئی۔جاں بحق ہونے والی لڑکی نازیہ کے والد نے بتایا کہ جمعہ کی رات کو نازیہ گھر کے قریب موٹر سائیکل میں دوپٹہ آنے کی وجہ سے گر گئی جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو گئی، اس کا بھائی فورا اسے سچل گوٹھ میں ہی قائم نجی اسپتال لے گیا، لیکن عملے نے زخمی نازیہ کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور پہلے 5 لاکھ روپے جمع کروانے کو کہا۔نازیہ کے بھائی نے اسپتال انتظامیہ کو بتایا بھی کہ وہ ایمرجنسی میں آیا ہے اس کے پاس اس وقت پیسے نہیں ہیں لیکن اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ وہ کم سے کم 3 لاکھ روپے جمع کرائے اس کے بعد ہی طبی امداد شروع ہو گی۔1 گھنٹے تک طبی امداد نہ ملنے پر جب اس کا بھائی زخمی نازیہ کو وہاں سے لے جانے لگا تو اسپتال نے 15 ہزار روپے کا بل پکڑاتے ہوئے کہا کہ یہ ادا کرنے

کے بعد ہی یہاں سے جا سکو گے۔بعد میں نازیہ کو سول اسپتال کے ٹراما سینٹر لایا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر اسے وقت پر طبی امداد دی جاتی تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔نازیہ کے والد نے چیف جسٹس اور وزیرِاعلی سندھ سے اپیل کی ہیکہ انہیں انصاف دلایا جائے اور غفلت برتنے والے اسپتال کے خلاف کارروائی کی جائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…