منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور میڈیکل کالج میں لڑکی کی موت کا معاملہ، مریم اور میں کئی سالوں سے دوست تھے، اسقاط حمل کے دوران طبیعت بگڑی،مردہ لڑکی کو ہسپتال چھوڑ کر فرار ہونے والے ملزم اُسامہ کے انکشاف

datetime 25  جنوری‬‮  2021 |

لاہور (آن لائن+ این این آئی) تھانہ نواب ٹاؤن پولیس نے لاہور یونیورسٹی سے ملحقہ ٹیچنگ ہسپتال کی ایمرجنسی میں مردہ حالت میں لائی جانے والی لڑکی کا معمہ حل کرلیا گیا ہے اور لڑکی کو لانے والے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنے شروع کردئیے ہیں مردہ حالت میں ہسپتال کی ایمرجنسی

میں لائی جانے والی لڑکی کی شناخت مریم کے نام سے ہوئی ہے جو لاہور یونیورسٹی کی طالبہ ہے جبکہ مریم کو اسامہ نامی نوجوان نے بازوؤں سے اٹھا کر ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچایا اور ایمرجنسی میں چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزم اسامہ کا دوسرا ساتھی اسی دوران گاڑی میں ہی بیٹھا رہا۔ متوفیہ مریم کے جسد خاکی کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے تاہم رپورٹ ابھی تک پولیس کو موصول نہیں ہوئی۔ پولیس نے مریم کے جسد خاکی کو ہسپتال کی ایمرجنسی تک پہنچانے کے لئے استعمال میں لائی جانے والی گاڑی کا بھی ڈیٹا حاصل کرلیا ہے جبکہ متوفیہ طالبہ کی عمر 27 سال بتائی گئی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا جس نے اپنے ساتھی کے ہمراہ متوفیہ کو ٹیچنگ ہسپتال کی ایمر جنسی میں چھوڑنے کا اعتراف کر لیا۔ گزشتہ روز دو لڑکے جواں سالہ نا معلوم لڑکی کو مردہ حالت میں ٹیچنگ ہسپتال کی ایمر جنسی میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ایک ملزم اسامہ کو گرفتار کر لیا جبکہ اس کے دوسرے ساتھی اویس کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے بیا ن دیا ہے کہ متوفیہ مریم گجرات کی رہائشی ہے اور گھر والوں کو یونیورسٹی فیس جمع کرانے کا کہہ کر لاہور آئی۔

پولیس کے مطابق ملزم اسامہ نے بتایا کہ مریم اس کی دوست تھی، مریم حاملہ تھی اور اسقاط حمل کرانے کے دوران اس کی طبیعت بگڑ گئی جسے وہ ہسپتال لا رہے تھے کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئی۔ پولیس کے مطابق لڑکی کی ہلاکت کی اصل وجوہات پوسٹمار ٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…