منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

ملکی قرضوں کی سطح تمام حدود پار کرچکی ، ایک سال کے دوران سرکاری قرضے 3.7کھرب روپے سے بڑھ کر 35.8کھرب روپے کی سطح پر پہنچ گئے

datetime 21  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے ملکی قرضوں کی بلند ہوتی شرع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویسے تو ہر نئے آنے والے حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں کیلئے بڑے پیمانے پر ملکی اور غیرملکی مالیاتی اداروں سے کڑی شرائط پر قرضے وصول کئے لیکن گزشتہ دو

تین برسوں میں ملکی قرضوں کی سطح تمام حدود پار کرچکی ہے صرف گذشتہ ایک سال کے دوران سرکاری قرضے 3.7کھرب روپے سے بڑھ کر 35.8کھرب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضے جو نومبر 2019میں 32.1کھرب روپے تھے، نومبر 2020میں بڑھ کر 35.8کھرب روپے ہو گئے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اِس رقم میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ شامل نہیں ہے۔انہوں نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجموعی سرکاری قرضہ کتنا زیادہ ہو گا۔ملکی قرضوں میں بے تحاشہ اضافے، ڈالرکی قیمت میں اضافے اور روپے کی بے قدری کی وجہ سے آج ملک میں مہنگائی عروج پر اورعوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، براڈ شیٹ مسلئے پر بنا کچھ حاصل کئے حکومت نے 29ملین ادا کرکے عوام کی کون سی خدمت کی ہے، واضح رہے کہ 2018میں وفاقی حکومت پر 24.2کھرب روپے کا قرضہ واجب الادا تھا جس میں یومیہ 13.2بلین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت کے طویل مدتی قرضوں میں زیادہ اضافہ ہواہے جو 16.6کھرب سے بڑھ کر 19.1کھرب روپے ہو گئے جبکہ ایک سال کے دوران مقامی قرضے 7.2کھرب سے چوبیس اعشاریہ ایک کھرب

تک پہنچ چکا ہے۔ قرضوں میں ہونے والا لامحدود اضافہ کمزور ملکی معیشت کے لئے کسی بھی طرح سود مند نہیں کیونکہ ہمارے ہاں اِن قرضوں کا بیشتر حصہ پچھلے قرضوں کے صرف سود کی ادائیگی میں ہی خرچ ہو جاتا ہے ، دنیا کے دیگر ممالک میں بھی حکومتیں قرض لیتی ہیں لیکن اس کے مصارف زیادہ تر ترقیاتی و عوامی فلاح سے متعلق ہوتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لئے گئے بیرونی اور اندرونی قرضوں کا بڑا حصہ حکومتی وزیروں

مشیروں، بیوروکریٹس کی عیاشیوں میں خرچ ہوجاتا ہے جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔اس نازک صورتحال کے پیش نظر حکومتی معاشی ماہرین کو غور کرکے ایسی معاشی پالیسیاں بنانی چاہئیں جن میں کم سے کم قرضوں کے حصول اور ملکی وسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے ملکی صنعتوں،زراعت اور دیگر وسائل کو فروغ دیا جائے تاکہ معیشت عارضی سہاروں پر نہیں بلکہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو اور عوام کو بھی کچھ ریلیف مل سکے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں کچھ بہتری کی امید پیداہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…