منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ملکی قرضوں کی سطح تمام حدود پار کرچکی ، ایک سال کے دوران سرکاری قرضے 3.7کھرب روپے سے بڑھ کر 35.8کھرب روپے کی سطح پر پہنچ گئے

datetime 21  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے ملکی قرضوں کی بلند ہوتی شرع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویسے تو ہر نئے آنے والے حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں کیلئے بڑے پیمانے پر ملکی اور غیرملکی مالیاتی اداروں سے کڑی شرائط پر قرضے وصول کئے لیکن گزشتہ دو

تین برسوں میں ملکی قرضوں کی سطح تمام حدود پار کرچکی ہے صرف گذشتہ ایک سال کے دوران سرکاری قرضے 3.7کھرب روپے سے بڑھ کر 35.8کھرب روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کے قرضے جو نومبر 2019میں 32.1کھرب روپے تھے، نومبر 2020میں بڑھ کر 35.8کھرب روپے ہو گئے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اِس رقم میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ شامل نہیں ہے۔انہوں نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجموعی سرکاری قرضہ کتنا زیادہ ہو گا۔ملکی قرضوں میں بے تحاشہ اضافے، ڈالرکی قیمت میں اضافے اور روپے کی بے قدری کی وجہ سے آج ملک میں مہنگائی عروج پر اورعوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، براڈ شیٹ مسلئے پر بنا کچھ حاصل کئے حکومت نے 29ملین ادا کرکے عوام کی کون سی خدمت کی ہے، واضح رہے کہ 2018میں وفاقی حکومت پر 24.2کھرب روپے کا قرضہ واجب الادا تھا جس میں یومیہ 13.2بلین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق وفاقی حکومت کے طویل مدتی قرضوں میں زیادہ اضافہ ہواہے جو 16.6کھرب سے بڑھ کر 19.1کھرب روپے ہو گئے جبکہ ایک سال کے دوران مقامی قرضے 7.2کھرب سے چوبیس اعشاریہ ایک کھرب

تک پہنچ چکا ہے۔ قرضوں میں ہونے والا لامحدود اضافہ کمزور ملکی معیشت کے لئے کسی بھی طرح سود مند نہیں کیونکہ ہمارے ہاں اِن قرضوں کا بیشتر حصہ پچھلے قرضوں کے صرف سود کی ادائیگی میں ہی خرچ ہو جاتا ہے ، دنیا کے دیگر ممالک میں بھی حکومتیں قرض لیتی ہیں لیکن اس کے مصارف زیادہ تر ترقیاتی و عوامی فلاح سے متعلق ہوتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لئے گئے بیرونی اور اندرونی قرضوں کا بڑا حصہ حکومتی وزیروں

مشیروں، بیوروکریٹس کی عیاشیوں میں خرچ ہوجاتا ہے جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔اس نازک صورتحال کے پیش نظر حکومتی معاشی ماہرین کو غور کرکے ایسی معاشی پالیسیاں بنانی چاہئیں جن میں کم سے کم قرضوں کے حصول اور ملکی وسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے ملکی صنعتوں،زراعت اور دیگر وسائل کو فروغ دیا جائے تاکہ معیشت عارضی سہاروں پر نہیں بلکہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو اور عوام کو بھی کچھ ریلیف مل سکے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں کچھ بہتری کی امید پیداہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…