منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

سوات: مدرسے میں تشدد سے طالبعلم کی موت، گرفتار 11ملزم عدالت میں پیش، نئے انکشافات سامنے آگئے

datetime 24  جولائی  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سوات کے علاقے خوازہ خیلہ میں واقع ایک دینی مدرسے میں طالب علم فرحان پر مبینہ تشدد سے ہلاکت کے واقعے میں پولیس نے 11 افراد کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا۔ عدالت نے تمام گرفتار ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔تاہم، واقعے کے مرکزی کردار، مدرسے کے مہتمم اور اس کا بیٹا، اب تک مفرور ہیں۔ پولیس نے ان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔فرحان کے چچا کا کہنا ہے کہ مدرسے کے مہتمم کا بیٹا مقتول سے نامناسب مطالبات کرتا تھا، جس پر فرحان مدرسے واپس جانے سے ہچکچا رہا تھا۔

چچا کے مطابق، وہ خود فرحان کو لے کر مہتمم سے شکایت کرنے گیا تھا، جس پر مہتمم نے معذرت کی تھی۔چچا نے مزید بتایا کہ اسی شام مغرب کے بعد مدرسے کے ناظم نے فون پر اطلاع دی کہ فرحان باتھ روم میں گر گیا ہے، لیکن جب وہ اسپتال پہنچے تو بھتیجے کی لاش پر واضح تشدد کے نشانات تھے۔دوسری جانب، وفاق المدارس خیبر پختونخوا کے ناظم اعلیٰ مولانا حسین احمد نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچے پر ہونے والا یہ ظلم نہ صرف اس کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے صدمے کا باعث ہے۔

انہوں نے غمزدہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام علماء کرام متاثرہ خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔مولانا حسین احمد نے وفاق المدارس کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا سید عثمانی کی جانب سے بھی تعزیت کا پیغام پہنچایا اور زور دیا کہ اس دلخراش واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…