منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

رکھوالے ہی عزتوں کے لٹیرے بن گئے، پولیس اہلکار نے گھر میں گھس کر بیٹے کے سامنے خاتون کی عزت لوٹ لی

datetime 20  جنوری‬‮  2021 |

بہاولنگر (این این آئی)پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں پولیس اہلکار نے گھر میں گھس کر خاتون کو بیٹے کے سامنے مبینہ آبرو ریزی کا نشانہ بنا ڈالا۔خاتون نے الزام عائد کیا کہ ملزم پولیس اہلکار پڑوسی ہے جو چھیڑ چھاڑ کرتا تھا جس پر اسے منع کیا تو اس نے گن پوائنٹ پر یہ افسوسناک کام کیا۔ خاتون کے مطابق پولیس اہلکار نے گھر میں

گھس کر بیٹے کے سامنے اس عمل کا نشانہ بنایا۔خاتون نے الزام لگایا کہ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا لیکن اسے گرفتار نہیں کیا اور وہ دندناتا پھر رہا ہے۔اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم عبوری ضمانت پر ہے، ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی ہوگی۔ پولیس کے مطابق میرٹ پرتفتیش کی جارہی ہے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب نے چند روز پہلے لبرٹی مارکیٹ گروانڈ کے واسا کے ٹیوب ویل میں قیام پذیر بے سہارا گھرانے کا نوٹس لیا تھا۔ ڈی سی لاہور مدثر ریاض ملک کو تمام تر معاملہ کی رپورٹ کی ہدایت کی تھی۔ رپورٹ کے بعد فیملی کی مالی مدد اور ان کے قیام کے لیے بندوبست کا فیصلہ کیا گیا۔ڈی سی لاہور مدثر ریاض ملک نے کھلونے فروخت کرنے والی بچی فاطمہ نور کی والدہ سلمی بی بی کو چیک دے دیا۔ ڈی سی لاہور مدثر ریاض ملک نے واسا ٹیوب ویل میں قیام پذیر فیملی کو وہاں جا کر ایک لاکھ روپے کا چیک دیا۔ سلمہ بی بی کا خاوند رکشہ ڈرائیور تھا۔ بیماری کے باعث اس نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس کی پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔یہ گھرانہ گھر نہ ہونے کی وجہ سے واسا کے لبرٹی ٹیوب ویل میں رہائش پذیر ہے۔ پورا گھرانہ کھلونے فروخت کرکے اور لنگر پر گزارہ کرتا ہے۔ پنجاب حکومت نے واسا کو ایک اضافی کمرہ اور باتھ روم بنانے کی ہدایت کی اور کھلونوں کی فروخت کے لیے بھی بندوبست کیا جائے گا۔ ڈی سی لاہور مدثر ریاض نے سلمہ بی بی کے بیٹے سمیع اللہ کوواسا میں ورک چارج پر نوکری کا لیٹر بھی دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…