’’یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں‘‘ مولانا فضل الرحمن کا شیخ رشید کو چیلنج، ہر رکاوٹ کواکھاڑ پھینکنے کا اعلان

  منگل‬‮ 19 جنوری‬‮ 2021  |  15:43

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آئن لائن )پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو چیلنج دیدیا ۔تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں اپنی طاقت کا بخوبی اندازہ ہے ، راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کا اکھاڑ پھینکیں گے ۔ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں ۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ سال سےفارن فنڈنگ کیس التوا کا شکار ہے جس کے خلاف الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کریں گے۔اپنی رہائش گاہ پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں


کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے خلاف فارن فنڈنگ کیس چھ سال سے التوا کا شکار ہے، حکومت درخواستیں دے کراس کیس میں تاخیرکر رہی ہے جس کے خلاف الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کریں گے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے باہر ہی ڈی ایم کے احتجاج کے پیش نظر حالات کو مانیٹر کرنے کے لیے وزارت داخلہ میں مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ،وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ تمام تر صورت حال کا خود جائزہ لیتے رہے،منگل کو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کے ہمراہ مانیٹرنگ سیل کا فوری دورہ کیا اور جائزہ لینے کے ساتھ ضروری ہدایات بھی دیں،وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر کیمروں کی مدد سے زیرک جائزہ لیا جائے اور شر پسند عناصر پر نظر رکھی جائے،کوئیک ریسپانس فورس کو بھی سٹینڈ بائی کر دیا گیا،نادرا اور آئی ٹی کی ماہر ٹیموں کو بھی وزارت داخلہ بلوا لیا گیا،شیخ رشید احمد نے کہا کہ پہلی بار کسی روک ٹوک کے بغیر احتجاج کی اجازت دی گئی ہے،امید ہے پی ڈی ایم بھی پر امن احتجاج کرے گی۔دریں اثناوفاقی وزیر اطلاعات و سینیٹر شبلی فراز شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت نے احتجاج کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں کی، اسلام آباد کی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی عمران خان کی جمہوریت پسندی کا ثبوت ہے۔ ایک ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ قوم نہیں بھولی جب (ن) لیگی حکومت نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو پر امن احتجاج کرنے پر نشانہ بنایا تھا، قوم سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی کبھی بھلا نہیں سکتی۔ علاوہ ازیں وزیر مو اصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ قوم آج چور مچائے شور کا عملی مظاہرہ دیکھ رہی ہے، نون لیگ اور پیپلزپارٹی نے فارن فنڈنگ کی رسیدیں نہیں دکھائیں۔ اپنے ایک بیان میں مراد سعید کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سے این آر او مانگنے کیلئے ڈرامہ ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے پی ڈی ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زرداری اور شریف خاندان نے اپنی جماعتوں کو بھی اپنے دھندے کے لئے استعمال کیا، پارٹیز کو فرنٹ کمپنی بنایا جہاں کرپشن کک بیکس کا پیسہ آتا تھا، الیکشن کمیشن نے 6 ہفتے کا وقت دیا لیکن وہ ڈیڈ لائن بھی گزر گئی۔


زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎