سینٹ الیکشن، اپوزیشن جماعتوں نے استعفوں سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

  پیر‬‮ 18 جنوری‬‮ 2021  |  16:13

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/آئن لائن )پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ کی اتحادی جماعتوں نے سینٹ الیکشن قبل مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پشاور میں اجلاس ہوا جس میں تمام اتحادی پارٹیز نے متفقہ رائے دی ہے کہ سینٹ الیکشن سے قبل استعفے نہیں دیے جائیں گے ۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز،شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف و دیگر شریک ہوئے تاہم بلاول بھٹو زرداری اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔پی ڈی ایم اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکا کے


لیے ظہرانے کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ جے یو آئی ف سمیت تمام اپوزیشن پارٹیز نے سینٹ الیکشن میں حصہ لینے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے متفقہ امیدوار کیلئے جلد ہی پی ڈی ایم کا اجلاس بلایا جائے گا ۔ دوسری جانب سینیٹ کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لئے تحریک انصاف اپوزیشن کے استعفوں کی منتظر ہے کیونکہ اگر اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا تو پھر تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کو ایوان میں سادہ اکثریت ملے گی لیکن اگر اپوزیشن اسمبلیوںسے مستعفی ہو جاتی ہے تو پھر حکمران اتحاد سینیٹ کی تمام 48 نشستیں جیت لے گا ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے استعفوں سے الیکٹرول کالج متاثر نہیں ہوگا ۔الیکٹرول کالج مکمل ہونے کی شرط صرف صدر کے انتخاب کے حوالے سے ہے ۔اگر صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے اپوزیشن مستعفی ہو جاتی ہے تو پھر بھی سینٹ الیکشن ہوگا اور ایسی صورت میں تمام نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اگر اپوزیشن نے سینیٹ انتخاب میں حصہ لیا تو تحریک انصاف کو صرف سادہ اکثریت ملے گی اور حکومتی اتحاد کی سیٹیں 41 سے بڑھ کر53 ہونے کا امکان ہے تاہم اپوزیشن کی اکثریت اقلیت میں اور حکومت کی اقلیت اکثریت میں تبدیل ہو جائے گی ۔اپوزیشن جماعتوں اراکین کی تعداد 63 سے کم ہو کر47 ہونے کا قوی امکان ہے ۔دوسری طرف جماعت اسلامی ،اے این پی ،مینگل اور وفاق سے ن لیگ کا صفایا ہو جائیگا کیونکہ اسلام آباد دونوں سیٹیں تحریک انصاف کو مل جائیں گی ۔ن لیگ کو بلوچستان اور کے پی کے سے دوبارہ سیٹیں ملنا مشکل ہے جبکہ پنجاب سے ن لیگ کو 11 میں سے 4 سے 5 سیٹیں بمشکل ملیں گی ۔


زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎