براڈ شیٹ سکینڈل بارے جواب طلب سوالات سینئر صحافی انصار عباسی نے نئی بحث چھیڑدی

  اتوار‬‮ 17 جنوری‬‮ 2021  |  11:39

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)براڈ شیٹ اسکینڈل چند اہم سوالات جو پاکستان کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں ، وہ بدستور جواب طلب ہیں ۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے مقامی عدالت کی جانب سے منجمد کئے جانے سے قبل دس لاکھ ڈالرزلندن میں پاکستانی ہائی کمیشن منتقل کئے جانے کی کوئی وضاحت نہیں کی، سرکاری ذرائع جو ان معاملات میں حکومتی طریقہ کار سے بخوبی آگاہ ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک پاکستانی سفارت خانوں اور ہائی کمیشنز میں حتیٰ کہ چند ہزار ڈالرز بھی فالتو یا اضافی نہیں


ہوتے ۔جب سفارتی عملے کو ہفتوں تنخواہیں نہیں ملتیں تب ماہانہ رقوم فراہم کی جاتی ہیں ، لہذا کس طرح تین کروڑ ڈالرز لندن کے پاکستانی ہائی کمیشن میں موجود تھے کہ برطانوی حکام آسانی سے رہنے دیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لندن ہائی کورٹ کے فیصلے ہی سے قبل رقم پیشگی لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اکائونٹ میں منتقل ہو چکی تھی جو نا قا بل یقین بات ہے ۔آیا حکومت پاکستان نے پاکستانی ہائی کمیشن کے اکائونٹ میں دانستہ منتقل کئے تھے تاکہ براڈ شیٹ آسانی سے اپنی رقم حاصل کر سکے جبکہ براڈ شیٹ کا مالک ایک معمر ایرانی انٹیلی جنس افسر بتایا جا تا ہے۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق اب ضمنی بجٹ وزیر اعظم کیمنظوری کے بغیر مختص نہیں کیا جاسکتا ۔ آیا وزیر اعظم اور کابینہ نے ادائیگی کی منظوری دی تھی ۔اس کے علاوہ مذکورہ رقم کی ہائی کمیشن کے اکائونٹ میں منتقلی ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل کی گئی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وزیر خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بھی قبل ازوقتزر مبادلہ منتقلی کے لئے اجازت درکار ہو تی ہے ، سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ آیا انہوں نے بھی اس کی منظوری دی تھی ؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے کسی غلط کاری کی صورت میں وزیر خزانہ اور سیکرٹری خارجہ سے وضاحت طلب کی جا نی چاہئے کہ انہوں نے تین کروڑ ڈالرز پاکستانیہائی کمیشن کے اکائونٹ میں ڈالنے کی اجازت کیسے دی ؟دنیا میں پاکستانی سفارتی مشنز میں اکائونٹس سفارتی اکائونٹ کے زمرے میں آتے ہیں جنہیں جینوا کنونشن کے تحت تحفظ حاصل ہو تا ہے۔ برطانوی حکام ایک سفارتی اکائونٹ کو کس طرح ضبط کر سکتے ہیں یا پاکستانی حکومتمیں کوئی انہیں اجازت دے سکتا ہے ۔بین الاقوامی قانون مین کئی حقیقی اور قانونی سوالات اٹھتے ہیں ۔مالی انتظامی طریقہ کار اور مقامی قانون کے حوالے سے بھی حکومت پاکستان سے سوالات کے جوابات طلب ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارتی اکائونٹ کو کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ۔اسے ریاست کا استثنیٰ حاصل ہو تا ہے اور اس کے حکم پر ہی اسے ختم کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی ختم نہیں کی جا سکتی جب تک وزیر اعظم اور کابینہ کی اجازت حاصل نہ ہو اور سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ثالثی جج کے فیصلے کو حکومت پاکستان نے عام کیوں نہیں کیا ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

آخری موو

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎

سینیٹ کا الیکشن کل اور پلاسی کی جنگ 23 جون 1757ءکو ہوئی اور دونوںنے تاریخ پر اپناگہرا نقش چھوڑا‘ بنگال ہندوستان کی سب سے بڑی اور امیر ریاست تھی‘پورا جنوبی ہندوستان نواب آف بنگال کی کمان میں تھا‘ سراج الدولہ بنگال کا حکمران تھا‘ دوسری طرف لارڈ رابرٹ کلائیو کمپنی سرکار کی فوج کا کمانڈر تھا‘ انگریز کے ....مزید پڑھئے‎