پی ڈی ایم کی قیادت نے یوٹرن لینے میں عمران خان کو بھی شکست دیدی،پی ڈی ایم کا اب فروٹ چاٹ، چنا چاٹ کے بعد تھوک چاٹ کی طرف رجحان ، حافظ حسین احمد کی پیشگوئی سچ ثابت

  جمعہ‬‮ 15 جنوری‬‮ 2021  |  23:44

کوئٹہ ( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سینئر رہنما سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ سینٹ اورضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کے موقف پر ڈٹے رہنے والے ڈھیر ہوگئے، پی دی ایم کی دیگر جماعتوں کے بعد مولانا فضل الرحمن کی پارٹی نے بھی ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرہی لیا،آزادی مارچ کی طرحمسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے ایک بارپھر دھوکا دیا جس کی میں نے پیشنگوئی کردی تھی، پی ڈی ایم کا پنڈی کی جانب لانگ مارچ کا اعلان ’’لیڈر بھبکی‘‘ ہے وہ پنڈی نہیں جائیں گے۔ وہ


جمعہ کے روز اپنی رہائشگاہ جامعہ مطلع العلوم میں مختلف وفود اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ پی ڈی ایم کی دیگر جماعتوں کے بعد مولانا فضل الرحمن کی پارٹی نے بھی ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کرہی لیا اسی طرح میر ی ایک اور پیشنگوئی بھی پوری ہوگئی، جب 20ستمبر کو پی ڈی ایم استعفیٰ دینے، کسی بھی ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے، سینٹ کے الیکٹورل کالج کو ختم کرنے کے میثاق پاکستان پر دستخط کرچکے تھے تو میں نے واضح طور میڈیا پر کہہ دیا تھا کہ ان تلوں میں تیل نہیں اور مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی آزادی مارچ کی طرح ہمیں دھوکا بھی دیں گے اور موقف تبدیل کردیں گے اس وقت تک مولانا فضل الرحمن اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے لیکن اب وہ بھی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے سامنے ڈھیر ہوگئے اس طرح انہوں نے یوٹرن لینے میں عمران خان کو بھی شکست دیدی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے اعلان کو اس لیے ہم نے ڈرامہ کہا تھا کہ کیوں کہ 2018ء کی دھاندلی زدہ اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن نے صدارتی الیکشن لڑااپنے بیٹے اسعد محمود کو ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑوایا اور ڈھائی سال سے اس کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کی زینت بنے بیٹھے ہیں اب کیوں کہ بلوچستان میں فضل آغا مرحوم اور خیبر پختونخواہ میں منیرخان اورکزئی کی وفات سے خالی ہونے والی نشستوں کے حصول کے لیے ایک بار پھر اصولی موقف کی دھجیاں بکھیردی گئی،ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا پنڈی کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی ’’لیڈر بھبکی‘‘ ہے، وہ پنڈی نہیں جائیں گے کیوں کہ دیگر ’’بلاؤں‘‘ کے ساتھ شیخ رشید بھی وہی پنڈی میں رہتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی قیادت مریم نواز کریں گی، ڈی چوک کی جانب لانگ مارچ کیقیادت بلاول بھٹوزرداری اور جی ایچ کیو پنڈی کے دھرنے کی قیادت مولانا فضل الرحمن کریں گے، انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کے وہی رولز ہونگے جو 2018ء کے انتخابات میں آزمائے گئے تھے برحال ماضی میں پی ڈی ایم والے’’فروٹ چاٹ‘‘ اور’’چنا چاٹ‘‘ سے شغل کرتے رہے ہیں اب لگتا ہے کہ’’تھوک چاٹ‘‘ کی طرف رجحان ہوگیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کلاسیکل مثال

مجھے چند دن قبل ایک دوست نے خوف ناک واقعہ سنایا‘ ان کی گلی میں ایک خاندان رہتا ہے‘ خاوند ملک سے باہر محنت مزدوری کرتا ہے‘ بیٹا شادی شدہ ہے لیکن بے روزگار ہے‘ ایک پوتا اور پوتی بھی ہے‘ خاتون بوڑھی اور بیمار تھی‘ وہ برسوں سے شوگر کی مریض تھی لیکن ادویات اور خوراک میں ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند دن قبل ایک دوست نے خوف ناک واقعہ سنایا‘ ان کی گلی میں ایک خاندان رہتا ہے‘ خاوند ملک سے باہر محنت مزدوری کرتا ہے‘ بیٹا شادی شدہ ہے لیکن بے روزگار ہے‘ ایک پوتا اور پوتی بھی ہے‘ خاتون بوڑھی اور بیمار تھی‘ وہ برسوں سے شوگر کی مریض تھی لیکن ادویات اور خوراک میں ....مزید پڑھئے‎