منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے گیس کی قلت کا توڑ نکال لیا پالیسی پر عملدرآمد سے اربوں روپے کا فائدہ بھی پہنچے گا

datetime 11  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزارت پٹرولیم فلیئر گیس پالیسی کو عملی جامہ پہنائے گی۔ فلیئر گیس قطری گیس کے معیار کی ہے۔ فلیئر گیس پالیسی پر عملدرآمد سے پاکستان کو کروڑوں اربوں روپے کا فائدہ پہنچے گا۔ گیس کی قلت کی وجہ سے پنجاب صوبہ کے پی میں ایک ہزار

سے زیادہ سی این جی اسٹیشن بند ہیں اور انڈسٹری گیس کی قلت کی وجہ سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی شائع خبر کے مطابق وزارت پٹرولیم ملک کے اندر گیس کی قلت دور کرنے کیلئے جس پالیسی پر غور کر رہی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ قومی ٹرانسمیشن لائن کا نیٹ ورک دور دراز کے علاقوں میں دریافت ہونے والی گیس کو پائپ لائن کے ذریعے قومی ٹرانسمیشن نیٹ ورک میں نہیں ڈال سکتا کیونکہ پائپ لائن کا بچھانا مہنگا ہے۔ اس لئے گیس دریافت کرنے والی کمپنیاں اسے ہوا میں جلا رہی ہیں۔ وزارت پٹرولیم نے کچھ عرصہ قبل فلیئر گیس پالیسی کا مسودہ تیار کیا جس کے تحت انڈسٹری اور سی این جی کو ورچوئل پائپ لائن ٹرکوں کے ذریعے گیس فراہم ہو سکے گی۔ اس طرح انڈسٹری اور سی این جی اسٹیشنوں کا گیس شارٹ فال دور کیا جا سکے گا۔ اس سے نہ صرف انڈسٹری کا پہیہ چلنے لگے گا بلکہ موٹر گاڑیوں کو سی این جی کی فراہمی بھی شروع ہو جائیگی۔ اگر یہ دریافت شدہ گیس کے کنوئوں کو

ورچوئل پائپ لائن ٹرکوں کے ذریعے گیس انڈسٹری اور سی این جی اسٹیشنوں کو فراہم ہونے لگے تو اسے آر ایل این جی کے متبادل کے طور پر ملک کے اندر استعمال کیا جا سکے گا۔ فلیئر گیس سی این جی اور انڈسٹری کی ضرورت پوری کر سکتی ہے۔ اس پالیسی پر عمل درآمد سے قوم کا کروڑوں اربوں روپے کا زرمبادلہ بچے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…