پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

سڑکوں پر فروخت ہونے والے ماسک شہریوں میں بیماریوں باٹنے کا سبب بننے لگے لوگ کھلے عام ماسک سے بیماریاں پھیلنے سے متعلق بے خبر، رپورٹ خوفناک انکشاف

datetime 10  جنوری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)انتظامیہ کی عدم توجہ کی وجہ سے ریڑھیوں اور سائیکلوں پر گرد و غبار سے بھرے کھلے عام ماسک سڑکوں پر فروخت ہورہے ہیں جو شہریوں میں بیماریوں بانٹنے کا زیادہ سبب بن رہے ہیں۔کراچی میں سڑکوں، ریڑھیوں اور سائیکلوں پر کھلے ماسک فروخت ہورہے ہیں، شہر کے مختلف علاقوں صدر، ایمپریس مارکیٹ، بوہری بازار، لالو کھیت، لانڈھی، نیو کراچی، لیاقت آباد،

ناگن چورنگی، ناظم آباد، طارق روڈ، بہادر آباد، اختر کالونی، کورنگی سمیت دیگر علاقوں میں سڑکوں پر ریڑھی بان اور سائیکلوں پر کھلے عام ماسک فروخت کرنے کی وجہ سے شہری مزید بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت 73 فیصد سے زائد لوگ کھلے عام ماسک سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے لاعلم ہیں کہ کھلے عام ماسک استعمال کرنے سے انہیں کیا، کیا بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں اور وہ کن کن بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ دکاندار بھی کھلے عام سٹرکوں پر ماسک فروخت کرنے سے اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے لاعلم ہیں،دوسری جانب شہر کی انتظامیہ اور دیگر ادارے بھی خاموش تماشائی بننے ہوئے ہیں کہ کھلے عام سڑکوں پر ماسک فروخت ہونے سے شہری کن کن بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں جس سے شہریوں کے دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ ماسک استعمال کرنے کے بعد انہیں کھلے عام سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں اور استعمال شدہ ماسک سڑکوں پر پھینکنے سے بھی شہری دیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔حکومت کی جانب سے جہاں موجودہ وبا کے بارے میں حفاظتی اقدامات کرنے کے لئے خاطر خواہ ہدایات کی جارہی ہیں اور لوگوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ میل جول کم سے کم کرنے اور پبلک مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ لوگوں کو یہ آگاہی بھی ضروری ہے کہ وہ پیکنگ والا اور میڈیکل اسٹور اور جنرل اسٹور سے ہی ماسک خریدنے کو زیادہ سے زیادہ ترجیح دیں تاکہ وہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…