جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

چھوٹے بھائی کو کیسے بتائیں اب بابا کبھی گھر نہیں آئیں گے، ریحانہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا،والد واحد کفیل تھے،سانحہ مچھ کے شہید کی بیٹی کی رُلا دینے والی باتیں

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

لندن، کوئٹہ(آن لائن)  چھوٹے بھائی کو کیسے بتائیں کہ اب بابا کبھی گھر نہیں آئیں گے ریحانہ کا ڈاکٹر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا کیونکہ ان کو ڈاکٹر بنانے والے ان کے والد ہی تھے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ریحانہ کے والد کریم بخش عرف محمد آصف ان دس کان کنوں میں شامل تھے جن کو سینچر اور اتوار کی درمیانی شب

بلوچستان میں مچھ کے علاقے میں قتل کیا گیا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ریحانہ کا کہنا تھا کہ ان والد گھر کے واحد کفیل تھے۔ریحانہ نے بتایا کہ وہ چار بہن بھائی ہیں جن میں بھائی سب سے چھوٹا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سب سے بڑی ہیں جبکہ بھائی کی عمر صرف چار سال ہے۔ریحانہ کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے والد محنت مزدوری کے لیے زیادہ تر باہر ہوتے تھے جس کے باعث جب چھوٹا بھائی ہم لوگوں سے کسی بات سے ناراض ہو جاتا تو ہم کہتے کہ جب بابا آئیں گے تو ہم ان کو بتائیں گے۔ہم اپنے چھوٹے بھائی کو اب کیسے بتائیں گے کہ والد اب دنیا میں نہیں رہے اور وہ اب کبھی بھی گھر نہیں آئیں گے۔ریحانہ نے بتایا کہ کوئلہ کانوں میں محنت مزدوری کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کئی ہفتے گھر نہیں آتے تھے بلکہ گھر کو چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ محنت مزدوری کرنے کے بعد ڈیڑھ دو ماہ بعد ہی گھر آتے تھے۔وہ جب ڈیڑھ دو ماہ بعد گھر آتے تھے تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کئی ہفتے بعد گھر آنے پر ان کی والدہ ان کے والد کے پسند کا کھانا بناتی تھیں تو اس پر وہ بہت خوش ہوتے تھے۔کئی ہفتے بعد جب وہ آتے تھے تو خوشی کا ایسا سماں بندھ جاتا تھا کہ جیسے والد کبھی باہر گئے ہی نہیں لیکن اب ان کے لیے ایک منٹ سال کے برابر لگ رہا ہے۔انھوں

نے کہا کہ ہزارہ قبیلے کے جو حالات ہیں ان کے پیش نظر ان کے والد ایک محنت کش ہونے کے باوجود ان کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ریحانہ کا کہنا تھا کہ اب چونکہ والد دنیا میں نہیں رہے جس کے باعث شاید وہ یہ خواب پورا نہ کر سکیں۔بی بی سی سے گفتگو میں ریحانہ نے استفسار کیا کہ ان کے والد اور دیگر افراد کا کیا قصور تھا کہ ان

کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔انھوں نے کہا کیا ان کا یہ قصور تھا کہ ان کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا یا یہ کہ وہ محنت مزدور ی کرتے تھے۔ریحانہ نے مزید کہا کہ انھیں پیسے نہیں چاہیے بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان آئیں اور انصاف کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے وعدوں کی بجائے اگر انصاف دلایا جائے تو ہم بہنیں اپنے والد کی تدفین خود کریں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…