اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

چینی والا، پاپڑ والا سنا ہوگا اب پیش خدمت ہے چاول والا ، ، کروڑوں روپے کا سودا چاول کی ایکسپورٹ طریقے سے کیاگیا ،خواجہ آصف اعلیٰ عہدیدار تھے انہیں اقامے کی ضرورت کیوں پڑی ؟ تہلکہ خیز انکشاف

datetime 30  دسمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی ) وزیراعظم عمران خان سے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے اپنے والد نواز شریف کو اقامہ میں دی گئی سزا کو نا جائز قرار دیالیکن وہ بھول گئیں کہ اقامہ ایک رہائشی اجازت نامے کو کہتے ہیں جس کی بنیاد پر بیرون ملک بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت مل جاتی ہے‘بابر اعوان نے کہا کہ

مزدور اقامہ لیتے ہیں اور وہ روزگار کے حاصل آمدنی ملک بھیجتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اقامہ کی مد سے ناجائز کمائے گئے پیسے پھر بیرون ملک جاتے ہیں اور کچھ پیسے باہر نکال دیتے انہیں آف شور کمپنی میں رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی والا، پاپڑ والا سنا ہوگا اب میں چاول والا بتا رہا ہوں، خواجہ آصف والے کیس میں بغیر کسی بزنس کے کروڑوں روپے کا سودا چاول کی ایکسپورٹ طریقے سے کیا گیا۔بابر اعوان نے کہا کہ ایک سال میں بغیر کسی بزنس کے 10 کروڑ روپے پہلے یہاں سے ادھر گئے اور پھر ادھر سے منی لانڈرنگ کے ذریعے یہاں آگئے،یہ پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدیدار تھے انہیں اقامہ کی کیا ضرورت تھی۔بابر اعوان نے کہا کہ خواجہ آصف نے عدالت میں کہا کہ باہر جس کمپنی میں کام کیا وہ تصدیق کیلئے آئیں گے،خواجہ آصف نے کہا کمپنی کا مالک لبنانی ہے وہ مجھے تنخواہ دینے کی تصدیق کیلئے آئیگا، یہ معاملہ بھی قطری خط کی طرح ہے۔اس موقع پر وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ بد قسمتی سے ماضی کے حکمرانوں نے اداروں کواپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا اور انہی کے ذریعے ناجائز دولت کو ملک سے باہر لے گئے ، ملک اور عوام کو غریب کیا ۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں مہنگائی سمیت کئی مسائل ہیں کیونکہ ماضی کے حکمرانوں نے ان مسائل پر توجہ ہی نہیں دی ۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ سینٹ کا اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر ہورہا ہے اور چھ نکاتی ایجنڈا بھی اپوزیشن کا ہے ہمارا کوئی ایجنڈا نہیں ۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے پھر کوشش کی گئی کہ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم کو اپنی سیاہ کاریوں کو چھپانے کیلئے استعمال کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ سینٹ میں ہماری تعداد کم ہے مگر ہم اپوزیشن سے سوالات کرینگے اور ان کے جوابات دینے ہونگے انہوںنے کہاکہ اپوزیشن سے ہمارے سوالات کا جواب ملنا کم ہے مگر امید رکھتے ہیں کہ ہمارے سوالوں کے جوابات ملیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے سوالات تو اپنی جگہ ہیں مگر اپوزیشن کو عدالتوں ، قانونی اداروں کے سوالات کاجواب دینا پڑے گا ۔ انہوںنے کہاکہ قانون کسی کا ماتحت نہیں ،سب قانون کے ماتحت ہیں ،آپ نے جو کام کئے ہیں اس کا عام شہری کی طرح جواب دینا پڑیگا ۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…