اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

مولانا شیرانی کو ساری عمر برداشت کرتا رہا اب۔۔ جے یو آئی ف سربراہ نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)مولانا فضل الرحمان نے نجی ٹی وی پروگرام میں کہا ہے کہ مولانا شیرانی کے بیان سے متعلق جماعت نوٹس لے رہی ہے اور کمیٹی بن چکی ہے، اجلاس بلائے جاچکے ہیں۔پنی ذات کے حوالے سے مولانا شیرانی کو ساری عمر برداشت کرتا رہا ہوں،مولانا شیرانی کے بیان سے متعلق جماعت نوٹس لے رہی ہے اور کمیٹی بن چکی ہے،

حکومت مخالف تحریک کا آغاز 26 جولائی 2018 کو ہوچکا تھا،ہمارا متفقہ موقف تھا کہ 25 جولائی کو دھاندلی ہوئی ہے، ایک تسلسل کے ساتھ اب تک ہم آگے آرہے ہیں،تحریک اپنے سفر کے دوران نشیب و فراز کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مولانا شیرانی کے بیان سے متعلق تشویش پیدا ہوئی ہے، جماعت کی الیکشن میں تو مولانا شیرانی خود موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ میرا انتخاب تو بِلامقابلہ ہوا، نہ مولانا شیرانی صاحب نے اور نہ کسی اور نے اپنا نام پیش کیا۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ صوبائی انتخاب مولانا شیرانی نے خود لڑا، جماعت کے انتخابی عمل میں شریک رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق رکن سازی ہو، ادارے بنے اور ووٹ پڑیں تو یہ تو جماعتوں میں نہیں ہوتا، جے یو آئی کا ایک آزاد، نظمی انتخاب ہے اور خود مختار ناظم انتخاب ہوا کرتا ہے۔ سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ جو کچھ آج نظر آرہا ہے اس کی کچھ اطلاعات میرے پاس تھیں، 1970 سے پہلے بھی جمعیت کو تقسیم کیا گیا پھر اس کے بعد بھی اختلافات پیدا کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ضیا کے دور میں بھی میں جمہوریت کی بات کر رہا تھا اور میں مارشل لا کے خلاف تھا۔ ایک آمر کو کیسے مانتا،ہم نے ضیا الحق کے خلاف جنگ شروع کی، 5 سال جیل آتا جاتا رہا ہوں، ضیا الحق کے زمانے میں اپنی زندگی کی طویل جیل گزاری لیکن آمریت کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت مخالف تحریک کا آغاز 26 جولائی 2018 کو ہوچکا تھا،ہمارا متفقہ موقف تھا کہ 25 جولائی کو دھاندلی ہوئی ہے، ایک تسلسل کے ساتھ اب تک ہم آگے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک اپنے سفر کے دوران نیشب و فراز کا شکار ہوتی رہتی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…