جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

جلسے کیخلاف میڈیا کو استعمال کرنے میں اسٹیبلشمنٹ کا پورا عمل دخل، ریاستی وڈیرے حکومت کی پشت پناہی سے دستبردار ہو جائیں، مولانا فضل الرحمان کا انتباہ

datetime 17  دسمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی)جمعیت علما اسلام کے مرکزی امیر اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کہا ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے اس لئے جلد الیکشن کرنا چاہتی ہے صدارتی آرڈیننس بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،الیکشن کمیشن خود حکومت کا مواخذاہ کرے،نیب کے کیسسز اتنے جھوٹے ہیں کہ کوئی جج کیس سننے کو تیار نہیں،میرے بھائی کو یہ کہہ کر کراچی سے

ہٹایا گیا کہ آپ جیسے قابل آدمی کی کے پی کے میں ضرورت ہے،انھیں آج تک پوسٹ نہیں ملی،حکومتی پشت پر کھڑے ریاستی وڈیرے ہٹ جائیں۔کراچی میں مدرسہ جامعہ عربیہ احسن العوم میں شیخ التفسیر والحدیث مولانا زرولی مرحوم کے سانحہ ارتحال پر ان کے بیٹے مولانا انور شاہ سے تعزیت کے بعد خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت حواس باختہ ہے اس لئیے جلد الیکشن کرانا چاہتی ہے، الیکشن کمیشن حکومت کا مواخذہ کرے صدراتی آرڈینس بھی اس آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا حکومتی پشت پر کھڑے ریاستی وڈیرے ہٹ جائیں تسلیم کرنا ہے تو اسرائیل کو نہیں فلسطین کو تسلیم کرنے کا مسلمانوں سے مطالبہ کرے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عمران خان خود این ار او مانگ رہے ہیں حکومت کے خلاف ملک بھر عوام کے درمیان نفرت بڑھ رہی ہے آج تو بینچ بات سننے کو تیار نہیں عدالتوں کا حال سب کے سامنے ہیں نیب کیسسز سیاستدانوں اور رشتہ داروں کو رسوا کرنے کے لئے ہے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا مہنگائی کس نے کی ذمہ دار کون ہے کن کو فائدہ پہنچایا گیا حکومت ناجائز ہے مدارس کی بندش پر وفاق المدارس خود رد عمل دیگا۔مولانا فضل الرحمن کا مولانا زر ولی خان کے بیٹے سے تعزیت کے بعد تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مولانا زرولی خان صاحب بہت بڑے علمی انسان تھے،انہوں نے مفتی زرولی خان کی دینی علمی دینی

خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو چلے گئے لیکن ان کا عظیم مشن ہم نے جاری رکھنا ہے۔اس موقع پر جے یوآئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی سیکرٹری علامہ راشد محمود سومرو، قائم مقام مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد اسلم غوری، جے یو آئی آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف،جامعہ بنوری ٹان کے

مولانا امداد اللہ، مفتی ابرار احمد، مولانا عبدالکریم عابد، ڈاکٹر نصیرالدین سواتی، مولانا مفتاح اللہ، مولانا فتح اللہ، مولاناسمیع الحق سواتی، مولانا عنایت اللہ، مولانا محمد زبیر، مولانا امین اللہ، مولانا ہمایوں مغل، مولانا محمد اکبر چترالی، شرف الدین اندھڑ، مولانا احسان اللہ ٹکروی، مولانا نورالحق، مولانا عبدالرشید نعمانی مولانا حماد اللہ شاہ ودیگر بھی موجود تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…