پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

جلسے کیخلاف میڈیا کو استعمال کرنے میں اسٹیبلشمنٹ کا پورا عمل دخل، ریاستی وڈیرے حکومت کی پشت پناہی سے دستبردار ہو جائیں، مولانا فضل الرحمان کا انتباہ

datetime 17  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)جمعیت علما اسلام کے مرکزی امیر اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کہا ہے کہ حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے اس لئے جلد الیکشن کرنا چاہتی ہے صدارتی آرڈیننس بھی آئین تبدیل نہیں کرسکتا،الیکشن کمیشن خود حکومت کا مواخذاہ کرے،نیب کے کیسسز اتنے جھوٹے ہیں کہ کوئی جج کیس سننے کو تیار نہیں،میرے بھائی کو یہ کہہ کر کراچی سے

ہٹایا گیا کہ آپ جیسے قابل آدمی کی کے پی کے میں ضرورت ہے،انھیں آج تک پوسٹ نہیں ملی،حکومتی پشت پر کھڑے ریاستی وڈیرے ہٹ جائیں۔کراچی میں مدرسہ جامعہ عربیہ احسن العوم میں شیخ التفسیر والحدیث مولانا زرولی مرحوم کے سانحہ ارتحال پر ان کے بیٹے مولانا انور شاہ سے تعزیت کے بعد خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت حواس باختہ ہے اس لئیے جلد الیکشن کرانا چاہتی ہے، الیکشن کمیشن حکومت کا مواخذہ کرے صدراتی آرڈینس بھی اس آئین کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا حکومتی پشت پر کھڑے ریاستی وڈیرے ہٹ جائیں تسلیم کرنا ہے تو اسرائیل کو نہیں فلسطین کو تسلیم کرنے کا مسلمانوں سے مطالبہ کرے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عمران خان خود این ار او مانگ رہے ہیں حکومت کے خلاف ملک بھر عوام کے درمیان نفرت بڑھ رہی ہے آج تو بینچ بات سننے کو تیار نہیں عدالتوں کا حال سب کے سامنے ہیں نیب کیسسز سیاستدانوں اور رشتہ داروں کو رسوا کرنے کے لئے ہے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا مہنگائی کس نے کی ذمہ دار کون ہے کن کو فائدہ پہنچایا گیا حکومت ناجائز ہے مدارس کی بندش پر وفاق المدارس خود رد عمل دیگا۔مولانا فضل الرحمن کا مولانا زر ولی خان کے بیٹے سے تعزیت کے بعد تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مولانا زرولی خان صاحب بہت بڑے علمی انسان تھے،انہوں نے مفتی زرولی خان کی دینی علمی دینی

خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو چلے گئے لیکن ان کا عظیم مشن ہم نے جاری رکھنا ہے۔اس موقع پر جے یوآئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی سیکرٹری علامہ راشد محمود سومرو، قائم مقام مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد اسلم غوری، جے یو آئی آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف،جامعہ بنوری ٹان کے

مولانا امداد اللہ، مفتی ابرار احمد، مولانا عبدالکریم عابد، ڈاکٹر نصیرالدین سواتی، مولانا مفتاح اللہ، مولانا فتح اللہ، مولاناسمیع الحق سواتی، مولانا عنایت اللہ، مولانا محمد زبیر، مولانا امین اللہ، مولانا ہمایوں مغل، مولانا محمد اکبر چترالی، شرف الدین اندھڑ، مولانا احسان اللہ ٹکروی، مولانا نورالحق، مولانا عبدالرشید نعمانی مولانا حماد اللہ شاہ ودیگر بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…