جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

صحافی کے سوال ”جب آپ جلسے کر رہے تھے وزیراعظم اپنے کتوں سے کھیل رہے تھے“ بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف کے وزراء کو کتوں سے تشبیہ دیدی

datetime 15  دسمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہے جو کسی کی والدہ کی موت پر بھی سیاست کر رہی ہے ہم اس سیاست کی مذمت کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ انسانیت کی جو لکیر ہوتی ہے اس سے ہم نیچے نہ گریں، اس موقع پر بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا کہ آپ ایک طرف بہت بڑا جلسہ کر رہے تھے دوسری جانب وزیراعظم اپنے کتوں سے

کھیل رہے تھے انہیں ذرا بھی پرواہ نہیں تھی، جس پر بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ کو وزیراعظم کے جو وزیر ہیں ان کے بارے میں اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں میں اہلیت نہیں کہ ملک چلا سکیں، ناجائز حکمرانوں میں سچ سننے کا حوصلہ نہیں۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں لیکن حکومت میں اہلیت نہیں وہ ملک چلا سکیں، قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ دونوں کو جیل میں ڈالا گیا ہے، ان پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، صرف ذاتی عناد کی بناء پر دونوں کو جیل میں رکھا جارہا ہے۔جمہوریت اور پارلیمان میں حل اپوزیشن اور حکومت دونوں کی رائے اور مفاہمت سے نکالا جاتا ہے،عمران خان نے پہلے دن سے کہا کہ وہ پی ٹی آئی اور فیس بک کا وزیر اعظم ہے۔اس پر وہ خوش ہے، لیکن عوامی سائل کو حل نہ کرنا ناانصافی ہے۔پی ڈی ایم اس کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ ہماری جدوجہد اور زور اس پر ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت بحال کریں، ایسا جمہوریت بحال کریں جو عوام کی نمائندہ حکومت ہوگی، شہبازشریف نے پہلی تقریر میں نیشنل چارٹرڈ کی بات کی، ملکر کام کرنے کی بات کی، لیکن حکومت نے بات نہیں مانی بلکہ ان کا زور اس بات پر ہے کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کو جیل میں رکھے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہی ہے، چینی چوری آٹا چوری کے بعد اب گیس کا بحران بھی

آنے والا ہے، عمران خان عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کام ہی نہیں کرتے، یہ پاکستان کے ساتھ نا انصافی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ‘ہماری جدوجہد پاکستان میں حقیقی جمہوریت بحال کرنا ہے جو عوام کی نمائندہ ہو اور عوام کے مسائل حل کرے’۔ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے جب بھی مل کر کام کرنے کی بات کی تو حکومت نے

انکار کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ صرف مخالفین کو جیل میں رکھیں ‘۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان ڈیموکریٹک الائنس (پی ڈی ایم) میں شامل تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پیچ پر ہیں اور ان کی ایک ہی منزل ہے، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم ایک پیج پر مل کر فیصلے کررہے ہیں اور استعفے جمع ہو رہے ہیں ‘۔سارے ارکان 31 دسمبر تک استعفے دیں گے،۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…