بدھ‬‮ ، 28 جنوری‬‮ 2026 

اسلام آباد میں ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ،جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس

datetime 14  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت نے اسلام آباد میں نئے سیکٹرز کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت اور سی ڈی اے پر ایک بار پھر شدید برہمی کا اظہار

کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ۔ریاست جب کرپٹ ہو جائے تو اسے بلیک میل بھی کیا جاتا ہے۔ ورنہ کس کی جرات ہے کہ ریاست کو بلیک میل کرے بااثر لوگوں نے معاوضے بھی لے لیے عام شہریوں کو کیوں نہ معاوضہ ملا نہ متبادل پلاٹس نیب سے پلی بارگین کرنے والے کرپٹ بھی بعد میں سرکاری پلاٹس لے جاتے رہیبس اگر کسی کومعاوضہ نہیں ملا تو وہ عام شہریوں کو جن کے آبا اجداد کی قبریں اسی شہر میں تھی کچھ عرصے سے ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد میں تو ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں ہیاس شہر کے منتخب نمائندوں کو شامل کر کے کمیشن بنایا وہ بھی مسائل حل نہیں کر سکے ۔سی ڈی اے صرف ایف سکس اور ایلیٹ کلاس کی خدمت میں لگی ہے ۔باقی اسلام آباد کا حال جا کر دیکھیں ایک پارلیمنٹ، دو اعلیٰ عدالتیں اس شہر میں ہیں پھر قانون کا یہ حال کیوں؟مزدور سب سے زیادہ بے گھر تھا اس کو پلاٹس کیوں نہ ملے؟ جس پر ہاؤسنگ فاونڈیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم میں اب گھر دیئے جا رہے ہیں عدالت نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف 14، اور ایف 15 کے متاثرین کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…