جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا ‎

datetime 9  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کو اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی بار کی درخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف

شوکت عزیر صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ بڑا کیس ہے، چاہتے ہیں کہ وکلا کو تسلی سے سن کر فیصلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ بینچ اگر 4 اراکین سے زیادہ ہو تو معمول کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں، جس پر شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے موکل شوکت عزیز صدیقی اگلے سال ریٹائر ہو جائیں گے، چاہتے ہیں کیس کا فیصلہ جلد ہو جائے۔اس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کیس کا فیصلہ دے دیں گے۔سماعت کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید اے رضوی نے مؤقف اپنایا کہ ہماری درخواستیں مقرر نا کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے مطابق درخواستوں میں استعمال کی گئی زبان درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس پر رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اعتراضات سے متعلق آگاہ کیا جائے تا کہ دوبارہ درخواست دائر ہو سکے۔اسلام آباد بار کے وکیل صلاح الدین کا کہنا تھا کہ میری ترمیمی درخواست بھی مقرر نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام درخواست گزاروں کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا جائے گا۔بعد ازاں عدالت نے رجسٹرار آفس کو کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی بار کی دردرخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت کو آئندہ برس جنوری تک ملتوی کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…