منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا ‎

datetime 9  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کو اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی بار کی درخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف

شوکت عزیر صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ بڑا کیس ہے، چاہتے ہیں کہ وکلا کو تسلی سے سن کر فیصلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ بینچ اگر 4 اراکین سے زیادہ ہو تو معمول کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں، جس پر شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے موکل شوکت عزیز صدیقی اگلے سال ریٹائر ہو جائیں گے، چاہتے ہیں کیس کا فیصلہ جلد ہو جائے۔اس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کیس کا فیصلہ دے دیں گے۔سماعت کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید اے رضوی نے مؤقف اپنایا کہ ہماری درخواستیں مقرر نا کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے مطابق درخواستوں میں استعمال کی گئی زبان درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس پر رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اعتراضات سے متعلق آگاہ کیا جائے تا کہ دوبارہ درخواست دائر ہو سکے۔اسلام آباد بار کے وکیل صلاح الدین کا کہنا تھا کہ میری ترمیمی درخواست بھی مقرر نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام درخواست گزاروں کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا جائے گا۔بعد ازاں عدالت نے رجسٹرار آفس کو کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی بار کی دردرخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت کو آئندہ برس جنوری تک ملتوی کردیا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…