پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا ‎

datetime 9  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کو اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی بار کی درخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف

شوکت عزیر صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ بڑا کیس ہے، چاہتے ہیں کہ وکلا کو تسلی سے سن کر فیصلہ کریں۔انہوں نے کہا کہ بینچ اگر 4 اراکین سے زیادہ ہو تو معمول کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں، جس پر شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے موکل شوکت عزیز صدیقی اگلے سال ریٹائر ہو جائیں گے، چاہتے ہیں کیس کا فیصلہ جلد ہو جائے۔اس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کیس کا فیصلہ دے دیں گے۔سماعت کے دوران کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید اے رضوی نے مؤقف اپنایا کہ ہماری درخواستیں مقرر نا کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ رجسٹرار آفس کے مطابق درخواستوں میں استعمال کی گئی زبان درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس پر رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اعتراضات سے متعلق آگاہ کیا جائے تا کہ دوبارہ درخواست دائر ہو سکے۔اسلام آباد بار کے وکیل صلاح الدین کا کہنا تھا کہ میری ترمیمی درخواست بھی مقرر نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ تمام درخواست گزاروں کو اعتراضات سے آگاہ کر دیا جائے گا۔بعد ازاں عدالت نے رجسٹرار آفس کو کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی بار کی دردرخواستوں پر اعتراضات سے متعلق وکلا کو آگاہی نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی سماعت کو آئندہ برس جنوری تک ملتوی کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…