پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

قومی اسمبلی تحلیل کروانے کیلئے 150 استعفے ناکافی معروف قانون دان اعتزاز احسن نے تعداد بتا دی‎‎

datetime 9  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /آئن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر مرکزی رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی تحلیل کروانے کیلئے 150استعفے کافی نہیں ہیں ۔نجی ٹی وی پروگران میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ تمام اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی سے مستعفی بھی ہو جائیں تو بھی اس سے حکومت ختم نہیں ہو گی ۔ حکومت کے خاتمے کیلئے قانونی طور پر

کم سے کم 259اراکین کا مستعفی ہونا ضروری ہے ۔ اسمبلی84اراکین کی موجودگی سے بھی چل سکتی ہے ۔جب تک قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 83نہیں رہ جاتی تب تک اسمبلی تحلیل نہیں ہو گی ۔ اس لیے اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو بھی جائیں تو اس صورت میں ضمنی الیکشن کروائے جا سکتے ہیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے پی ڈی ایم کو لاہور کا جلسہ ملتوی کرنے کا مشورہ دے دیا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتیں جلسے جلوس سے نہیں جاتیں صرف تیسری طاقت ہی اْنہیں گراتی ہے لیکن ن لیگ نے تو تیسری طاقت کے ساتھ بھی ٹکر لی ہے کیوں کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ملکی سیاست کو تصادم کی طرف لے کر جارہی ہیں لیکن ان کا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا ، اپوزیشن جماعتوں کو بھی سوچنا چاہیئے کہ نوازشریف کے بیانیے میں پی ڈی ایم کامفاد نہیں ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ استعفے دینے کا ایٹم بم چلانے کا فیصلہ مسلم لیگ ن اکیلے اپنے طور پر کیسے کر سکتی ہے؟ جس بھی سیاسی جماعت کو زیادہ شوق ہے تو وہ اپنے استعفے جمع کروائے لیکن میری ذاتی رائے میں پیپلزپارٹی کو استعفوں کی حد تک نہیں جانا چاہیئے۔پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ مریم نواز تو نوازشریف سے بھی دو قدم آگے نکل گئی ہیں مگرانہیں موقع ملا تو وہ باہر چلی جائیں گی اگرایساہوا تو یہ ان کے لیے بڑا ریلیف ہوگا اوروالد کیساتھ رہیں گی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…