منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

خیبرٹیچنگ اسپتال واقعہ، حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو10،10لاکھ روپے دینے کا اعلان کر دیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2020 |

پشاور( آن لائن) خیبرپختونخوا حکومت نے آکسیجن کی عدم دستیابی کے باعث خیبرٹیچنگ اسپتال میں دم توڑ جانے والے6 افراد کے لواحقین کو10، 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کردیا ہے مشیراطلاعات خیبرپختونخوا کامران بنگش اور وزیرصحت تیمورسلیم جھگڑا نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ آکسیجن کی کمی ہی واقعے کا سبب بنی۔ بدقسمتی سے آکسیجن وافر مقدار میں

سپلائی نہیں ہوئی لہذا جاں بحق افراد کے لواحقین کو انصاف دلانا ہوگا۔ ہسپتال کے آکسیجن نظام کو مزید جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ 21ویں صدی میں18ویں صدی کا نظام نہیں چل سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرٹیچنگ اسپتال واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ 5دن میں آجائے گی۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات لانی ہیں۔ ہم نے صحت کے شعبے میں بہترین اقدامات سے عوام کو مطمئن کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں صحت کے نظام کو آئیڈیل نہیں کہا جاسکتا البتہ کچھ تبدیل ضرور ہوا ہے۔ اس سے قبل خیبرٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن کی عدم دستیابی کے متعلق رپورٹ کے نتیجے میں ڈائریکٹر سمیت عملے کے 7 ارکان کو معطل کر دیا گیا ہے۔معطل کیے گئے افراد میں فیکلٹی ممبر، میڈیکل انجینئر، سپلائی مینجر، بایئو میڈیکل انجئینر اور ڈیوٹی ائمپلائی آکسیجن بھی شامل ہیں۔بورڈ آف گورنرز نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں آکسیجن پلانٹ کے 3 لوگوں کوغفلت کا مرتکب قرار دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق غیرتربیت یافتہ عملہ ڈیوٹی پر مامور تھا اور بایئو میڈیکل انجئینر فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہا۔ اسپتال میں ایمرجنسی کی صورت میں کسی قسم کا کوئی ریسکیو اسکواڈ موجود نہیں تھا۔ اسپتال انتظامیہ آکسیجن عملے کی تربیت اور نگرانی میں ناکام نظر ا ئی ‎

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…