یہ کام نہیں کر سکتے، سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کو ضروری ڈیٹا فراہم کر نے سے معذرت کرلی

  جمعہ‬‮ 4 دسمبر‬‮ 2020  |  0:09

اسلام آباد (این این آئی)چیف الیکشن کمشنر کو بتایاگیا ہے کہ الیکشن کا بروقت انعقاد آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 140اور 219 کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہواجس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمیشن ،سیکرٹری پارلیمانی امور ، سینئر کنسلٹنٹ لاءاینڈ جسٹس ڈویڑن اور الیکشن کمیشن کے دیگر افسران نے شرکت کی۔چیف الیکشن کمشنر نے شرکاء اجلاس کو بتایا کہ الیکشن کا بروقت انعقاد آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 140اور 219 کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔انہوں


نے کہا کہ الیکشن کمیشن الیکشنز ایکٹ 2017 کے دفعہ 17(1) کے تحت پابند ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لئے ان کے مروجہ قانون کے مطابق حلقہ بندی کرے گا، مزید اسی سیکشن کی ذیلی دفعہ-2 کے تحت الیکشن کمیشن حلقہ جات کی حلقہ بندی ہرمردم شماری کی سرکاری اشاعت کے بعد کرئے گا۔ مزید انہوں نے اس بات پر بھی زوردیا کہ الیکشن ایکٹ کی دفعہ 219(4) کے تحت لوکل گورنمنٹ الیکشن کا انعقادمقامی حکومتوں کی میعاد ختم ہونے کے120 دن کے اندر الیکشن کمیشن نے کروانے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے بتا یا کہ الیکشن کمیشن نے سندھ گورنمنٹ کو نقشہ جات ودیگر ضروری ڈیٹا مہیاکرنے کے لئے کہا جس کے جواب میں سندھ گورنمنٹ نے مذکورہ بالا ڈیٹا دینے سے معذرت کی اور کہا کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق مردم شماری کے عبوری اعدادوشمار پر حلقہ بندی کرنے کا مجاز نہیں ہے لہذا جب تک مردم شماری 2017 ء کے سرکاری اعدادوشمار کی اشاعت نہیں ہوتی حلقہ بندی کے عمل کو موخر کیا جائے۔اس دوران ایم کیو ایم کی طرف سے بھی آئینی پٹیشن نمبر 2020/2948سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی جس میں استدعاکی گئیکہ جب تک مردم شماری 2017ء کے سرکاری اعدادوشمارکی اشاعت نہیں ہوتی الیکشن کمیشن کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لئے حلقہ بندی سے روکا جائے۔سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی پچھلی سماعت 24نومبر 2020ء کو ہوئی جس میں الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کی گئیں کہ متعلقہ اداروں کو مردم شماری کے فوری اعداوشمار کی سرکاری اشاعت کے لئے خط لکھا جائے۔ عدالتیاحکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے مذکورہ بالا اعدادوشمار کی سرکاری اشاعت نہ ہونے کے مضمرات پر بھی روشنی ڈالی اور کہاکہ مردم شماری کے سرکاری اعدادوشمار کی اشاعت کے بغیر الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کا عمل شروع نہیں کر سکتا جس کے نتیجے میں صوبہ سندھ ، بلوچستان و کنٹونمنٹ کیمقامی حکومتوں کے انتخاباتکے غیر ضروری التواء کا خطرہ ہے۔اسکے علاوہ جنرل الیکشن 2023 ء کے انعقاد میں بھی مشکلات پید ا ہوں گی۔اس سلسلے میں سیکرٹری پارلیمانی امور اور سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کو مدعو کیا گیا کہ وہ الیکشن کمیشن کی معاونت فرمائیں۔ سیکرٹری پارلیمانی امور نے الیکشن کمیشن کو بتایا پاکستان بیور وآف سٹیٹکس نے بتایا کہ منسٹرز کمیٹی جو کہ فیڈرل کیبنٹ نے تشکیل دی تھی اورجس کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ مردم شماری 2017ء کے رزلٹ کو حتمی شکل دے اس کی 6 میٹنگز ہو چکی ہیں پہلی 3 میٹنگز کے منٹس جار ی کر دیئے گئے ہیں اور باقی 3میٹنگز کے منٹس ابھی پراسس میں ہیں۔ ابھی تک کمیٹی نے اپنی رپورٹ / سفارشات کو حتمی شکل نہیں دی۔جونہی کمیٹی اپنی رپورٹ کابینہ کو دے گی۔کیس کو سی سی آئی کو بھیجا جائے گا تاکہ وہ مردم شماری کےحتمی رزلٹ کی منظوری دے۔ اس کے علاوہ کمیشن کو بتایا گیا کہ چیئرمین کمیٹی جو کہ منسٹرمیر ی ٹائیم آفیئرز ہیں ان کو بھی متعدد بار یادہانی کرائی گئی ہے کہ جتنی جلد ہو سکے وہ مردم شماری 2017 ء کی اشاعت سے متعلق اپنی سفارشات کو مکمل کریں۔ کمیشن کویہ بھی بتایا گیا کہ کمیٹی کی 6 میٹنگز کا سٹیٹس سی سی آئی کی 43 میٹنگ جوکہ 11 نومبر 2020ء کو ہوئی اس میں بھیبتایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کاجلد از جلد حل مردم شماری 2017 کے رزلٹ کی سرکاری اشاعت ہے ، یا پھر حکومت کو کسی قانون کے ذریعے متباد ل حکمت عملی اپنا نا ہوگی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو یقین دلایا کہ منسٹری پارلیمانی امور اس ضمن میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی۔کنسلٹنٹ منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس نے بتایا کہ منسٹرلاء سے انکی مشاورت نہیں ہوسکی جس کیوجہ سے اس کیس کے بارے میں وہ کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتے منسٹری آف لاء اس کیس کو ترجیجی بنیادوں پر لے گی تاکہ مسئلہ کا حل نکالا جا سکے۔ منسٹر لاء سے consultation کے بعد لاء ڈویژن لازمی اور جلداز جلد الیکشن کمیشن کو assist کرے گا۔الیکشن کمیشن نے دونوں افسران کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اس کیس کو متعلقہ منسٹرصاحبان اور حکومت کے ساتھ زیر بحث لائیں اور الیکشن کمیشن کی اس قومی اور قانونی امور میں معاونت فرمائیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎