جو امت حضورؐ کی توہین پر کچھ نہ کر سکے اسے مر جانا چاہیے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس

  جمعرات‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2020  |  20:23

لاہور( این این آئی)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے انبیا ئے کرام اور صحابہ کرام کی توہین آمیز پوسٹوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ جو امت حضورؐ کی توہین پر کچھ نہ کر سکے اسے مرجانا چاہیے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے انبیا کرام اور صحابہ کرام کی توہین آمیز پوسٹوں کے خلاف درخواست پر سماعتکی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد کے خلاف گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے جبکہ سائبر کرائم رولز میں شکایات


کے اندراج اور کارروائی کا ذکر موجود ہے۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ یہ کوئی سیکولر حکومت ہے جس نے یہ رولز منظور کیے، آپ نے جو رولز جمع کروائے اس سے ایسا لگتا ہے کہ جو آدمی متاثر ہے صرف وہی شکایت درج کروا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں تو سرکار دو عالمؐ کی ذات کے معاملے میں بڑا کلیئر ہوں، اگر ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر لوگ مقرر کر رکھے ہیں تو حضورؐ کا معاملہ بھی تو قانون میں شامل ہے۔چیف جسٹس محمدقاسم خان نے کہا کہاس امت کو مر جانا چاہیے کہ اگر سرکار دو عالم ؐ کی توہین ہو تو وہ کچھ کر نہ سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسی معاملے پر 9 مقدمات درج کیے ہیں، عدالت اس معاملے پر معاونت فراہم کرنے کے لیے مہلت دے۔فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔، دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے ایم سی بی کا ای او بی آئی کنٹری بیوشن واپس نہ کرنے پر چیئرمین اور ڈی جی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان کو کیس کا پراسکیوٹر مقرر کر دیا،عدالت نے چیئرمین اور ڈی جی ای او بی آئی کو فرد جرم کیلئے 13 جنوری کو طلب کر لیا جبکہ چیف جسٹس محمد قاسم خاننے ریمارکس دئیے ہیں کہ مختلف محکموں کے افسران کے خلاف توہین عدالت کی 4 ہزار درخواستیں زیر التوا ء ہیں،سرکاری افسروں کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے وہ عدالتی حکم پر جان بوجھ کر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے ایم سی بی بنک کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی ۔ درخواست گزار بینک کی طرف سے طارق بشیرایڈووکیٹ پیش ئے اور موقف اپنایا کہ ای او بی آئی نے ملازمین کے کنٹری بیوشن کیلئے رقم جمع کروانے کا حکم دیا تھا،نوٹس پر 14 کروڑ روپے جمع کروائے ۔فاضل ہائیکورٹ نے بنک ملازمین کی کنٹری بیوشن کا نوٹیفکیشن کالعدم کر دیا تھا، لاہور ہائیکورٹ نے ای او بی آئی کی مد میں جمع کروائے گئے 14 کروڑ روپے واپس کرنے کا حکم بھی دیا تھا،عدالتی حکم کے باوجود جمع کروائیگئی رقم واپس نہیں کی جا رہی۔ استدعا ہے کہ چیئرمین اور ڈی جی ای او بی آئی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ دوران فاضل چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود افسران سے استفسار کیا چیئرمین اور ڈی جی کون ہیں؟ ۔چیئرمین اور ڈی جی نے ہاتھ کھڑا کر کے اپنی حاضری کا بتایا۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں افسروں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر رہا ہوں، آئندہسماعت پر دونوں افسروں پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔وکیل ای او بی آئی نے کہاکہ ہم واجبات ادا کرنے کو تیار ہیں، ایک موقع دیدیں ہم عدالتی حکم پر عملدرآمد کر کے رپورٹ جمع کروا دیتے ہیں۔ فاضل عدالت نے کہا کہ آپ نے مذاق بنایا ہوا ہے۔ عدالت حکم کے بعد سپریم کورٹ سے کوئی حکم امتناعی بھی موجود نہیں اور رقم روک کر بیٹھے ہیں، ان افسروں کی وجہ سے لوگ دھکے کھاتےپھر رہے ہیں، ایسا رویہ برداشت نہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی استدعا کی کہ ایک موقع دے دیں حکم پر عملدرآمد کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پراسکیوٹر مقرر کر دیا ہے، اب آپ چاہیں تو آئندہ سماعت وکالت نامہ لیکر آجائیں یا پراسکیوٹر رہیں۔ ادارے کے وکیل نے دوبارہ استدعا کی کہ ایک موقع دے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود رقم ادا نہیں کی گئی ،آپ رقم کے ساتھ انٹرسٹ بھی دیں گے پھر دیکھیں گے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بلیک سٹارٹ

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎

آپ بجلی کے تازہ ترین بریک ڈائون کو سمجھنے کے لیے گاڑی کی مثال لیں‘ گاڑی کو انجن چلاتا ہے لیکن ہم انجن کو سٹارٹ کرنے کے لیے اسے بیٹری کے ذریعے کرنٹ دیتے ہیں‘ بیٹری کا کرنٹ انجن کو سٹارٹ کر دیتا ہے اور انجن سٹارٹ ہو کر گاڑی چلا دیتا ہے‘ آپ اب فرض کیجیے انجن راستے میں ....مزید پڑھئے‎