جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

آپ جیلوں میں بعد میں جاتے ہیں ، گھر سے کھانا اور امپورٹڈ ادویات کی سہولتوں کی درخواستیں پہلے جمع کر ادیتے ہیں،مریم نواز کو کھری کھری سنا دی گئیں

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن)چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ مریم نواز اور ان کے حواریوں کا میت والا گھر ہونے کے باوجود سیاسی بیان بازی سے گریز نہ کرنا قابل مذمت ہے ، کسی بھی قید ی کی پیرول پر رہائی کیلئے قانون و ضابطے مکمل کرنا ہوتے ہیں اور

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے معاملے میں بھی یہی کیا گیا ہے ، کورونا کی دوسری لہر شدت اختیار کر رہی ہے اس لئے اپوزیشن ہوش کے ناخن لے اور ملک کو مزید مشکلات کی دلدل میںنہ دھکیلے ۔ میڈیا کیلئے جاری کئے گئے اپنے ویڈیو بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ جس روز سے محترمہ بیگم شمیم اختر کا انتقال ہوا اسی روز سے مریم نواز اور ان کے حواریوںکی جانب سے سیاسی بیان بازی میں شدت لائی گئی ہے ۔ گھر میں تعزیت کے لئے آنے والے صحافیوں سے بھی سیاسی گفتگو کی گئی اور اس میںہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ جیلوں میں بعد میںجاتے ہیں اور گھر سے کھانا اور امپورٹڈ ادویات منگوانے کی سہولتوں کیلئے درخواستیں پہلے جمع کر ادیتے ہیں ۔چوہوں کا بچا کھانا ،فنگس والی اددویات دینے اور ناروا سلوک کے بیان پر ان کی جماعت کے رہنما حیران ہیں اور ان کے پاس دلیل کے ساتھ کوئی جواب نہیں ۔انہوںنے کہا کہ مریم نواز نے پہلے اپنے والد کی سیاست کو اپنے ہاتھوںسے دفن کیا اور اب پوری جماعت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہیں جس کا ان کی جماعت میں بر ملا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…