جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

سعودی عرب کے دباؤ کو برداشت کرنا ہماری اسٹیبلشمنٹ کے لئے ممکن نہیں نواز شریف کی امریکہ کو خوش کرنے اور این آر او حاصل کرنے کیلئے بڑی حکمت سامنے آ گئی

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی ارشاد احمد عارف نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے ضد اورہٹ دھرمی کا مظاہرہ ہو رہا ہے اگر معقولیت سے سوچاجائے، اگر عوام نقطہ نظر سے سوچا جائے بڑی آسانی ہے ایک اپوزیشن کواللہ تعالیٰ نے ایک موقع عطا کیا ہے کیونکہ ان کے جلسے تو کوئی خاص کامیاب نہیں ہوئے تحریک کی کامیابی پہلے

دن سے مشکوک ہے سب کو پتہ ہے کہ جلسے جلوسوں سے نہ حکومت ختم کی جا سکتی ہے نہ جس طرح سے نواز شریف جس طرح سے لوگوں سے استعفے مانگ کر جواب مانگ رہے ہیں، نہ ہی اس طرح سے جواب لئے جا سکتے ہیں۔ قدرت نے ان کو موقع دیا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ عوام کی صحت اور کارکنوں کی صحت کی وجہ سے جلسے جلوس ملتوی کر رہے ہیں، یہ آسان ان کے لئے کہ وہ کہہ دیں پاکستان کے وسیع تر مفاد کے لئے ہم یہ جلسے ملتوی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دو جماعتیں جو چھ چھ، پانچ پانچ بار اقتدار میں آ چکی ہیں وہ ثابت کر چکی ہیں کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں نہ ہی کوئی انتخابی اصلاحات کیں اور نہ ہی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے کوئی کام کیا ہے۔معروف صحافی نے کہا کہ نہ ہی ان جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کو پیچھے دھکیلنے کے لیے کوئی کارہاے نمایاں انجام دیا۔معروف صحافی نے امریکہ کو خوش کرنے اور این آر او حاصل کرنے کے لئے حکمت عملی بارے کہا کہ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں موجودہ حالت میں، جن علاقوں پر وہ قبضہ کر چکا ہے وہ ویسے کے ویسے ہی رہیں۔زیادہ دباؤ سعودی عرب پر تھا، اس کے قریبی دوست ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا، صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ سعودی عرب کی مرضی کے بغیر نہیں ہو رہا، سعودی عرب کی جانب سے اگلا دباؤ پاکستان پر آنا تھا،

اس پر موجودہ اپوزیشن اور خاص کر میاں نواز شریف کی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے لئے سعودی عرب کا دباؤ برداشت کرنا آسان نہیں ہے۔چاہے حکومت برداشت کرلے، عمران خان تو ڈٹ جائیں لیکن اسٹیبلشمنٹ تیارنہیں، نواز شریف کی حکمت عملی ہے کہ جب ہم بھی دباؤ ڈالیں گے اور کہیں گے دوست ممالک

کا ساتھ دینا چاہیے تو اس کے نتیجے میں میں ہمارے لیے بھی گنجائش پیدا ہو گی ہم پہلے بھی امریکہ کا کچھ نہ کچھ مفاد پورا کرتے رہے ہیں، ان کی حکمت عملی ہے کہ انہیں یقین دلایا جائے ہمیں موقع دیاجائے تو ہم یہ کام کر سکتے ہیں۔اس حکمت کے تحت اپوزیشن نے اور خاص طور پر نواز شریف یہ کرنا چاہ رہے ہیں۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…