قریبی دوست بھی ہمارے ساتھ نہیں کھڑے،پاکستان کی معیشت دیوالیہ ، قومی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ، تہلکہ خیز دعویٰ

  جمعہ‬‮ 30 اکتوبر‬‮ 2020  |  22:53

سانگھڑ(این این آئی)مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہاہے کہ پاکستان کی معیشت کودیوالیہ کردیا گیا ہے، قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، خارجہ پالیسی اس مقام پر آگئی ہے کہ قریبی دوست بھی ہمارے ساتھ نہیں کھڑے۔سانگھڑ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ

(ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کودیوالیہ کردیا گیا ہے، قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں،سیاسی نظام بوسیدہ اور معیشت دیوالیہ کردی جائے تو قومی طاقت کمزور ہوجاتی ہے، خارجہ پالیسی اس مقام پر آگئی ہے کہ قریبی دوست بھی ہمارے ساتھ نہیں کھڑے، ہم تنہا کیسے دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں،داخلی،خارجی اورمعاشی طور پر ملک کمزور ہوگیا ہے۔لیگی رہنما نے کہاکہ 72 سال میں کئی حکومتیں اور مارشل لا آیا،بھارت کو کشمیرکی متنازع حیثیت بدلنے کی جرات نہیں ہوئی،آج مودی نے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کردی اور بھارت کا حصہ بنالیا، بھارت نے کشمیرکو تر نوالا سمجھ کر ہضم کرلیا ہے، سوا سال سے کشمیر میں کرفیو لگا کر آگ و خون کاکھیل کھیلا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے عدالتی نظام پر بڑے بڑے سوال کھڑے کردیئے گئے ہیں،جج ارشدملک کے واقعے نے بتادیا کس طرح عدالتی نظام سے دھونس دھاندلی سے فیصلے لئے جاتے ہیں،ارشدملک کوبرطرف کردیاکہ وہ جج کااہل نہیں،لیکن اسکا فیصلہ مقدس کتاب کی طرح کھڑا ہے۔لیگی رہنما نے کہاکہ پولیس سربراہ محفوظ نہیں تو چوکی پرکھڑا اہلکارخودکوکیسے محفوظ سمجھ سکتا ہے،لوگوں کوساتھ لیکرچلنے کی صلاحیت نہیں تونظام تباہ ہوجاتے ہیں،تحریک جعلی حکمران کو رخصت کرنے تک جاری رہے گی،دہشت گردی دوبارہ سراٹھارہی ہے، وزارت داخلہ اپوزیشن کا پیچھا کررہی ہے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ہم کوئلے سے پٹرول کیوں نہیں بناتے؟

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎

پروفیسر اطہر محبوب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر ہیں‘ یہ چند دن قبل اسلام آباد آئے‘ مجھے عزت بخشی اور میرے گھر بھی تشریف لائے‘ یہ میری ان سے دوسری ملاقات تھی‘ پروفیسر صاحب پڑھے لکھے اور انتہائی سلجھے ہوئے خاندانی انسان ہیں‘ مجھے مدت بعد سلجھی اور علمی گفتگو سننے کا موقع ملا اور میں ابھی تک اس ....مزید پڑھئے‎