جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ مہنگائی پاکستان میں ہے،حکومت اپوزیشن سے لڑنے کی بجائے مہنگائی اوربے روز گاری سے لڑے،حکومتی وزیر مشیر بھارتی چینلز دیکھنے کی بجائے یہ کام کریں، حیرت انگیز مشورہ

datetime 30  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کو گوجرانوالا جلسہ کا تو درد ہے مگر پشاور مسجد میں ہونے والے دھماکہ کا کوئی درد نہیں۔ حکومت اپوزیشن سے لڑنے کی بجائے دہشت گردی ،مہنگائی اوربے روز گاری سے لڑے۔حکومت کا بیانیہ اب چلنے والا نہیں ۔حکومتی وزیر مشیر بھارتی چینلز دیکھنے کی بجائے قومی چینلز دیکھیں ،جہاں

مہنگائی اور بے روز گاری کا مسلسل رونا رویا جارہا ہے ۔ ملک کے بڑھتے ہوئے مسائل دکھائی نہیں دے رہے ۔حکومت سینیٹرز کا ایک وفد امریکہ بھیجے تاکہ وہ عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کوئی قانونی قدم اٹھا سکیں اور قوم کی بیٹی کو واپس پاکستان لایا جاسکے ۔مسجد میں بم دھماکہ کے اتنے بڑے واقعہ کے بعد بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلی شہید بچوں کے والدین کو دلاسہ دینے نہیں گئے ۔حکومت کی نااہلی کی وجہ سے جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ مہنگائی پاکستان میں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔حکومت کو تین دن قبل دہشت گردی کی اطلاعات تھیں مگر مدرسہ اور مسجد کی حفاظت کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔حکومت کا فرض تھا کہ وہ مدرسہ کے بچوں کو تحفظ دیتی اور مدرسہ اور مسجد کو سیکورٹی فراہم کرتی ۔حکومت نے انتہائی بے حسی اور غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا۔ابھی تک مدرسہ میں پولیس یا سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو تعینات نہیں کیا گیا۔اگر مدارس کے بچوں کو بھی اے پی ایس کے بچوں کی طرح سمجھا جاتا تو حکومت ان کی حفاظت کرتی ۔اے پی ایس واقعہ کے بعد قومی قیادت نے اپنے تمام تراختلافات کو بھلا کر ایک نیشنل پلان بنایا تھا جس کے نتیجے میں ملک میں امن آیا مگر اب اس پلان پر عمل نہیں ہورہا جس کی وجہ سے دہشت گردی دوبارہ

سر اٹھا رہی ہے ۔حکومت بتائے کہ اس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت چار ہزار بے گناہ پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کرنے والے قومی مجر م کو واپس لانے اور قانون کے حوالے کرنے کیلئے کیا کیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو ووٹ دینے والے بھی پریشان ہیں۔ حکومت اپنے ہمدردوں اور کارکنوں کی توقعات پر بھی پورا نہیں اتر سکی۔انہوں نے کہا کہ

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مسئلہ پوری قوم کا مسئلہ ہے ۔جب موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح یہ اعتراف کرتی ہے کہ عافیہ صدیقی ناکردہ جرم میں گرفتار ہے تو اس کی رہائی کیلئے کوئی سنجیدہ قدم کیوں نہیں اٹھاتی ۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے حکومتی کوششیں نہ ہونے کے

برابر ہیں۔قوم ان حکومتی کوششوں سے مطمئن نہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ سینیٹ کے چیئرمین رولنگ دیں کہ سینیٹر زپر مشتمل ایک وفدامریکہ بھیجا جائے تاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمہ کا جائزہ لے کر ان کی رہائی کی کوششوں کو مربوط کیا جاسکے اور قوم کی بیٹی کی رہائی کا کوئی راستہ کھل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…