جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

”جو لیڈر منہ پر ہاتھ پھیر کر کہے کہ میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں، اس طرح“ معروف صحافی حامد میر نے نام لئے بغیر وزیراعظم عمران خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی و سینئر صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام کیپٹل ٹاک کے آخر میں اپنے پیغام میں کہا کہ ایسی بات کرنا چاہتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ کسی کو ناگوار گزرے، اس وقت مسلم دنیا کو ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو متحد کریں، تقسیم نہ کریں، ملک کا یا قوم کا لیڈر اسی وقت قوم کو متحد کر سکتا ہے، سیاسی مخالفت ضرور کرے، سیاسی

مخالفوں پر تنقید بھی کرے، لیکن تنقید اس طرح نہ کرے کہ منہ پر ہاتھ پھیر کر کہے کہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا پھر آپ لوگوں کو متحد نہیں کرتے بلکہ تقسیم کرتے ہیں۔ سینئر کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم ”آگ ہی آگ“ میں  لکھتے ہیں  کہ۔۔۔وزیراعظم نے منہ پر ہاتھ پھیر کر اپوزیشن کو انتہائی دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ اب تمہیں ایک بدلا ہوا عمران خان ملے گا جو نواز شریف کو برطانیہ سے واپس لا کرعام جیل میں ڈالے گا اور آئندہ کسی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری نہیں کرے گا۔ غصے سے بھرے ہوئے وزیراعظم نے اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 16اکتوبر کو گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں نواز شریف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر حملہ کیا۔ اُنہوں نے آرمی چیف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ہر مشکل میں حکومت کا ساتھ دیا۔ اُن کی تقریر میں عدلیہ اور نیب سے شکوہ شکایت جھلک رہا تھا کیونکہ اپوزیشن کے کئی رہنما گرفتار تو ہیں لیکن اُنہیں سزائیں نہیں ملیں۔ عمران خان نے کہا کہ اب میں اپنے ماتحت اداروں کے ذریعے چوروں کو پکڑوں گا۔ اُن کا اشارہ یقیناً ایف آئی اے اور ایف بی آر کی طرف تھا۔اپنے ایک اور کالم میں معروف صحافی نے لکھا کہ 1972میں بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو ناصرف صدر پاکستان بلکہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی تھے۔ اس وقت پنجاب اور

سرحد(خیبر پختونخوا) میں پولیس نے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ مطالبہ پورا نہ ہوا تو دونوں صوبوں میں پولیس نے کام چھوڑ دیا، ہڑتال ہو گئی۔ بھٹو نے اس وقت کے آرمی چیف گل حسن سے مدد مانگی لیکن گل حسن نے معذرت کر لی۔ آخر کار بھٹو نے مجبور ہو کر ایئر فورس کے سربراہ ایئر مارشل رحیم خان سے مدد مانگی۔ منیر احمد منیر کی کتاب المیہ مشرقی پاکستان، پانچ کردار

میں گل حسن اور رحیم خان کے انٹرویوز موجود ہیں۔بھٹو کو شک تھا کہ یہ ہڑتال گل حسن اور ولی خان کی سازش ہے لیکن ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا۔ یہ معاملہ اتنا بگڑا کہ گل حسن نے استعفیٰ دے دیا۔ بھٹو کی خواہش تھی کہ فوج مدد کو نہیں آئی تو ایئر فورس مدد کو آئے۔ ایئر مارشل رحیم نے بھٹو سے

کہا کہ سر ایئر فورس اپنے لوگوں پر بمباری نہیں کر سکتی۔ بھٹو نے کہا، آپ پنجاب کے شہروں پر نیچی پروازیں کریں تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ مسلح افواج ہمارے ساتھ ہیں۔ ایئر مارشل رحیم خان نے بھی انکار کر دیا اور استعفیٰ دے دیا۔بھٹو نے ان دونوں کو آسٹریا اور اسپین میں سفیربنا کر بھیج دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…