بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

85 فیصد پاکستانی پریشان تازہ سروے نے ہلچل مچادی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن)گیلپ پاکستان نے اپنے ایک سروے کے دوران انکشاف کیا ہے کہ85 فیصد پاکستانی آمدن کم ہونے پر شدید پریشان ہیں، گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے کھانا کم کھانے، سستی غذائی اشیاء استعمال کرنے اور رشتہ داروں سے مدد مانگنے والوں کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق گیلپ سروے میں ملک بھر سے 2100 افراد نے حصہ لیا۔

یہ سروے 9 ستمبر سے 2 اکتوبر کے درمیان کیا گیا۔پریشان حال افراد کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا سے عام آدمی کی معاشی حالت مزید خراب ہوئی ہے جس میں اب تک بہتری نہیں آسکی، سے زائد افراد نے حصہ لیا۔۔سروے میں کورونا کی وبا کے دوران گھریلو آمدنی میں کمی کی شکایت پاکستانی عوام کی اکثریت نے کی۔ گزشتہ سروے میں 84 فیصد افراد نے آمدن میں کمی ہونے کا کہا تھا جب کی موجودہ سروے میں یہ شرح 85 فیصد نظر آئی جبکہ آمدن میں کوئی فرق نہ کہنے والوں کی شرح 16 فیصد سے کم ہو کر 14 فیصد ہوگئی۔ اسی طرح گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے کھانے میں کمی کا گزشتہ سروے میں 09 فیصد افراد نے کہا تھا لیکن موجودہ سروے میں ایسا کہنے والوں کی شرح 3 فیصد اضافے کے بعد 12 فیصد ہوگئی۔گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے سستی غذائی اشیاء کے استعمال کا کہنے والے افراد کی شرح گزشتہ سروے میں 10 فیصد تھی جو 6 فیصد اضافے کے بعد اب 16 فیصد پر آگئی ہے۔گزشتہ سات دنوں میں بنیادی ضروریات کیلیے رشتہ داروں یا عزیزوں سے مدد لینے کا کہنے والے افراد کی شرح گزشتہ سروے کے مقابلے میں 10 فیصد اضافے کے بعد اب 21 فیصد پر آگئی ہے۔سروے میں یہ دیکھا گیا کہ گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئے عوام کا انحصار جمع پونجی پر کم ہورہا ہے۔گزشتہ سروے میں 10 فیصد افراد نے جمع پونجی استعمال کرنے کا بتایا تھا جبکہ موجودہ سروے میں 6 فیصد نے ایساکرنے کا کہا۔ مگر یہ تعداد بھی ملکی آبادی کے

تناسب سے 72 لاکھ بنتی ہے۔سروے میں دیکھا گیا کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے گزشتہ سروے کی طرح موجودہ سروے میں بھی 11 فیصد افراد نے ذرائع آمدن بڑھانے پر غور کرنے کا کہا ہے۔حکومت اور این جی اوز سے امداد لینے کا کہنے والے افراد کی شرح بھی گزشتہ سروے کے مقابلے میں 01 فیصد اضافے کے بعد 04

فیصد ہوگئی ہے۔موجودہ سروے میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کیلئے اپنے اثاثے بیچنے کا کہنے والے افراد کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ گزشتہ سروے میں 5 فیصد نے اثاثے بیچنے کا کہا تھا جبکہ موجودہ سروے میں 7 فیصد افراد نے ایسا کرنے کہا۔ آبادی کے تناسب سے گیلپ پاکستان کے مطابق یہ شرح 84 لاکھ بنتی ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…