جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

اگر وجہ فحاشی ہے تو امریکہ اور بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی کیوں لگی ؟حامد میر نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 9  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان میں چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی۔معروف سوشل میڈیا ایپ پر پابندی غیر قانونی و غیر اخلاقی مواد کو روکنے کیلئے مثر مکینزم تیار کرنے پر ناکامی پر لگائی گئی، زیادہ ٹک ٹاک ایپ ڈان لوڈ کرنے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل۔اس حوالے سے حامد میر نےایسا سوال پوچھا لیا جس نے نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹک ٹاک کے پاکستان میں بین ہونے پر کہا ہے کہ ’’اطلاع کا شکریہ لیکن یہ بتائیں کہ امریکہ اور بھارت میں فحاشی کی شکائت نہیں تھی وہاں بھی ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی گئی آخر کوئی تو اور وجہ بھی ہو گی !۔ قبل ازیں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق معاشرے کے مختلف طبقوں کی جانب سے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کی موجودگی کی شکایات کی تھیں جس کے بعد ایپ پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ اپنے تحفظات شیئر کیے گئے تھے اور انہیں پی ٹی اے کی ہدایات پر عمل کے لیے مناسب وقت بھی دیا گیا تھا تاہم ٹک ٹاک انتظامیہ ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس نے ٹک ٹاک انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ اگر وہ آنے والے دنوں میں ریگولیٹر کی ہدایات کے مطابق غیر اخلاقی مواد کو روکنے کا مثر مکینزم تیار کرلیتا ہے تو پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔اس سے قبل گزشتہ ماہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ٹنڈر اور سے ہائے سمیت پانچ ڈیٹنگ ایپس اور لائیو اسٹریمنگ ویب سائٹس پر پابندی لگائی تھی۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان معاشرے میں بڑھتی عریانیت اور فحاشی پر شدید پریشان ہیں اور انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو اس کی روک تھام کے لیے ہدایت کی ہے کیونکہ ایسا نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے کی سماجی و مذہبی اقدار تباہ ہو جائیں گی۔شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک یا دو نہیں بلکہ 15 یا 16 مرتبہ اس معاملے پر مجھ سے بات کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا اور اس کی ایپلی کیشنز کے ذریعے پھیلنے والی فحاشی کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔‎

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…