جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

2006میں نواز شریف سے میری لندن میں ملاقات ہوئی تھیانہوں نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا پیغام پاکستانیوں کیلئے دیا تھالیکن  2007میں واپس ملک آتے ہی پہلا ٹکٹ کسے دیا ؟رئوف کلاسرا کا اہم انکشاف 

datetime 6  اکتوبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )نواز شریف صاحب سے میرا پہلا براہ راست آمنا سامنا جدہ میں 2005ء میں ہوا تھا جب میں حج کرنے گیا تھا ۔سینئر کالم نگار رئوف کلاسرا اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔دوسری ملاقات ایک سال بعد لندن ڈیوک سٹریٹ میں ہوئی اور اگلے ایک برس مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ رپورٹر کے طور پر آپ سیاستدانوں سے ملتے ملتے ان کا

ذہن پڑھنےاور سمجھنے کیصلاحیت پیدا کرلیتے ہیں۔ نوازشریف اس وقت پرویز مشرف کے خلاف سٹینڈ لئے ہوئے تھے‘ جیسے وہ آج کل مقتدرہ کے خلاف لئے ہوئے ہیں۔ اُس وقت ان کے بیانیے کو بڑی حمایت حاصل تھی۔ان کے بینظیر بھٹو کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی کی جمہوریت پسند اور صحافی حلقوں نے بہت سپورٹ کی تھی۔ اُس وقت بھی وہ یہی کہتے تھے جو آج کہہ رہے ہیں۔ لندن میں نواز شریف نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا: کلاسرا صاحب آپ جا کر پاکستانیوں کو بتا دیں کہ میں نے وہ دکان بند کردی ہے جہاں لوٹوں کا کاروبار ہوتا تھا‘ جس نے پرویز مشرف سے ہاتھ بھی ملایا ہوگا اُسے پارٹی میں شامل کروں گا نہ ہی اسے ٹکٹ ملے گی۔ دو دفعہ وزیراعظم بن لیا‘ کافی ہے اب اصلی انقلاب آئے گا۔ یہ سب ڈرامہ لندن میں ہورہا تھا۔ پاکستان لوٹتے ہی سب سے پہلے ٹکٹ زاہد حامد کو دیا‘ جنہوں نے وزیرقانون کی حیثیت سے جنرل مشرف کا تین نومبر2007 ء کا ایمرجنسی آرڈر ڈرافٹ کیا تھا۔ نہ صرف زاہد حامد کو ٹکٹ دیا بلکہ2013 ء میں انہیں وزیرقانون بھی بنایا۔ امیر مقام پرویز مشرف کے اتنے لاڈلے تھے کہ جرنیل نے امریکی وزیردفاع رمز فیلڈ سے تحفے میں ملنے والے دو پستولوں میں سے ایک ان کو دے دیا تھا۔ آج کل وہی امیرمقام نواز لیگ کے کرتا دھرتا ہیں۔ صرف دو مثالیں پیش کررہا ہوں ‘ ایسی باتیں اس وقت تک کی جاتی ہیں جب تک اقتدار نہیں ملتا ‘جیسے آج کل کی جارہی ہیں۔ مجھے2007ء کے بعد ان دونوں بھائیوں کی کسی بات اور وعدے پر اعتبار رہا اور نہ ہی ان کے دعووں اور جمہوریت کے چیمپئن بننے کی بڑھک کو کبھی سنجیدہ لیا

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…