اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرکے حکومت نے نیب کے ذریعہ طبل جنگ بجا دیا ، حافظ حسین احمد کا تہلکہ خیز اعلان

  پیر‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2020  |  23:25

کوئٹہ(این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ترجمان اور سابق سینیٹر حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرکے حکومت نے نیب کے ذریعہ طبل جنگ بجا دیا ہے،شہباز شریف کی گرفتاری سے پی ڈی ایم کا اتحادمزید مضبوط اور متحد ہوگا ۔نیب کو بظاہر احتسابی ادارہ کہا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اپوزیشن کے لیے ’’انتقامی ‘‘ ادارہ بن چکا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر شہبازکی گرفتاری پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ نیب کو دو چیزوں کی بڑی مہارت ہے ایک اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف


میڈیا ٹرائل اور دوسری ان کی گرفتاری جوکہ نیب آج تک کسی الزام کو عدالت میں ثابت کرسکا، انہوں نے کہا کہ ادویات، چینی، گندم، بنی گالہ، بی آرٹی، مالم جبہ اور سلائی مشین جیسے میگا کرپشن کے احتساب کی نیب کو جرات ہی نہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کاچیلنج کے جواب کے بعد میدان سے فرار ہونااچھنبے کی بات نہیں اگر وہ مولانا فضل الرحمن سے معافی نہیں مانگتے تو پلان نمبر 2کا بھی آغاز کیا جاسکتا ہے جو شیخ رشید کے لیے کسی چینل پر مناظرے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگا،حافظ حسین احمد نے کہا کہ شیخ رشید نے ترجمانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے شہباز شریف کی گرفتاری کی اطلاع دی تھی شیخ رشید کی اس پیشنگوئی سے نیب کی کاروائیوں میںایک قابل احترام احساس ادارہ جس کی ترجمانی کے دعویدار شیخ رشید ہے پر بھی ملوث ہونے کا الزام لگایا جارہا ہے جب تک وہ ادارہ اس حوالے سے خاموش رہے گا تو ناعاقبت اندیش شیخ رشیدکے مزید نقصان کے خدشات بڑھتے جائیں گے ، ایک اورسوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس تازہ ترین اقدام سے جہاں اپوزیشن کا اتحاد مضبوط ہوگا وہاں پر اے پی سی میں اجتماعی استعفے دینے کے تجویز سمیت جے یو آئی کے موقف کو زیادہ پذیرائی ملے گی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎