طالب علم پرچے میں سوالات کے جوابات نہ دے تو وہ فیل ہی ہوگا،عدلیہ ہمارے تابع نہیں، ضمانت مسترد ہونے پر دیے گئے بیانات توہین عدالت قرار،شہباز شریف کی گرفتاری پر ردعمل

  پیر‬‮ 28 ستمبر‬‮ 2020  |  23:05

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزراء نے اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی گرفتاری پر پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز کی پریس کانفرنس پر جواب دیتے ہوئے واضح کیاہے کہ عدلیہ ہمارے تابع نہیں، ضمانت مسترد ہونے پر دیے گئے بیانات توہین عدالت ہے،شہباز شریف عدالت کو تسلی بخش جواب نہ دینے پر گرفتار ہوئے ،یہ کسی ادارے کے سامنے پیش ہونا اپنی ہتک سمجھتے ہیںتو یہ نہیں ہوسکتا ، مریم نواز نے خاندانی رئیس ہونے کادعویٰ کیا ہے ،پیسا صحیح طریقے سے کمانا منع نہیں ، جو سوالات پوچھے گئے ان کے جواب نہیں دیئے ، ایک


طالب علم پرچے میں سوالات کے جوابات نہ دے تو وہ فیل ہی ہوگا،دعویٰ جمہوری پارٹی کا ہے ، رویہ بادشاہوں سے زیادہ تکبرانہ ہے، یہ عمران خان اور شہباز شریف کا موازنہ کرتے ہیں جسے میں توہین سمجھتا ہوں،نوازشریف نے انقلابی تقریر کی نہ ان کا بلڈ پریشر اوپر گیا نہ کوئی اور تکلیف ہوئی،مریم نواز کی پریس کانفرنس چچا کے خلاف چارج شیٹ تھی ،بھتیجی نے مسلم لیگ (ن)سے شہباز شریف کی سیاست کا خاتمہ کردیا۔ پیر کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعا تو نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مریم نواز دعویٰ کر رہی تھیں کہ ہم تو خاندانی رئیس ہیں، خاندانی رئیس ہونا اور اثاثے بنانا کوئی بری بات نہیں تاہم شہباز شریف کی گرفتاری کی ایک وجہ یہ ہے وہ عدالت کو مطمئن نہ کرسکے،ان سے جو سوالات پوچھے گئے انہوں نے جواب نہیں دیا، نواز شریف بھی اپنے اثاثوں سے متعلق عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے تھے۔انہوں نے کہا کہ پیسا صحیح طریقے سے کمانا منع نہیں ہے اور اس پر کوئی قدغن نہیں ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان سے سوال پوچھنا شان میں گستاخی ہے تو یہ نہیں ہوگا، شہباز شریف کو سزا اس بات پر ملی کہ وہ عدالت کو تسلی بخش جوابنہیں دے سکے، ایک طالب علم پرچے میں سوالات کے جوابات نہ دے تو وہ فیل ہی ہوگا۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ ادارے آپ کی منشا سے کام کریں تو ٹھیک قانون کے تحت چلیں تو غلط، جس کی اولاد اور سرمایہ باہر ہے تو اس کا ملک میں کیا ہے، دعویٰ جمہوری پارٹی کا ہے لیکن رویہ بادشاہوں سے زیادہ تکبرانہ ہے۔شبلی فراز نے نے کہا کہ اثاثوں کے ذرائع بتادئیے جائیں تو کیس ختم ہوجاتاہے، یہ کسی ادارے کے سامنے پیش ہونا اپنی ہتک سمجھتے ہیں تو یہ ہو نہیں سکتا، وزیر اعظم عمران خان کے 300کنال کے گھر کا ذکر ہوا ان کا کوئی عوامی عہدہ نہیں تھا، عمران خان کی خون پسینے کی کمائی قانونی ذرائع سے ملک آئی ، یہ عمران خان اور شہباز شریف کا موازنہ کرتے ہیں جسے میں توہین سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ سارے انہی کی طرح ہیں، عمران خاننے 40 سال کی منی ٹریل دی، سپریم کورٹ نے انہی کی حکومت میں عمران خان کو صادق و امین قرار دیا تاہم انہوں نے ایک سوال کا جواب نہیں دیا اور سیاسی انتقام کے پیچھے خود کو مظلوم بنایا، اگر کوئی ٹیکس اتھارٹی یا عدالت ذرائع کا پوچھے تو جواب دیا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ عدلیہ پر دبائو ڈالنا ان کا کر دار رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ کی بات کرکے یہتو ہین عدالت کررہے ہیں،یہ اس لیے چاہتے ہیں عمران خان جائے کیونکہ وہ جھکتا اور بکتا نہیں،ہمارا عوام سے وعدہ تھا کہ ہم احتساب کریں گے،ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے پائوں پر کھڑے ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم سیاست کی بنیاد نہیں میرٹ کی بنیاد پر فیصلے چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عوام کو اس سوال کا جواب چاہیے کہ وہ اثاثے کیسے باہر لے کر گئے۔ انہوںنے کہاکہ شہباز شریف کو عمران خان کے مقابل قرار دینے کو گالی اور تو ہین سمجھتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف نے انقلابی تقریر کی نہ ان کا بلڈ پریشر اوپر گیا نہ کوئی اور تکلیف ہوئی۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ واضح ہوگیا کہ شہباز شریف اور ان کی پارٹی قانونی جنگ ہار گئی، مریم نواز کی پریس کانفرنس مکمل فرمائشی پروگرام تھااور ان کی پریس کانفرنس ان کے چچا کے خلاف چارج شیٹ تھی۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے تسلیم کرلیا کہ ان کے چچا مفاہمت کی سیاست کرتے ہیں جبکہ انہوں نے مسلم لیگ (ن)سے شہباز شریف کی سیاست کا خاتمہ کردیا۔شہزاد اکبر نے کہاکہ مریم اورنگزیب کرائے کے ترجمان کی طرح رٹی رٹائی تقریر کر کے چلی گئیں، ان سے کہتا ہوں کہ ان پر توہین عدالت ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہمریم نواز نے شہبازشریف کی سیاست کو مفاہمت کی سیاست قرار دیا،انہوںنے کہاکہ مریم نے شہبازشریف سے ہمدرد ی کرنے کی بجائے ان کی سیاست کا دھڑن تختہ کیاشہزاد اکبر نے کہا کہ پچھلے 6 ماہ میں شہباز شریف کتنی بار گلگت بلتستان گئے، کتنی بار وہاں خطاب کیا؟ (ن)لیگ پنجاب کے ریجنل حصے کی پارٹی ہے گلگت بلتستان الیکشن سے انہیں کیا لینا دینا۔انہوںنے کہاکہ بھتیجینے خود شہباز شریف کو پنجاب کا لیڈر قرار دیا ان کا گلگت بلتستان سے کیا تعلق؟شہبازشریف نے اب تک گلگت بلتستان کی کتنی اڑانیں بھریں اور کتنے جلسے کیے؟انہوںنے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد ہونے کو حکومت نیب گٹھ جوڑ قرار دیکر کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ ن کو وہ احتساب قبول ہے جس میں وہ خود بری الذمہ ہوں۔ شہزاد اکبر نےکہاکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ نوازشریف کے کیا کرتوت تھے جس پر نااہل ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ شہبازشریف منظم منی لانڈرنگ کر رہے تھے ،یہ علی بابا سولہ چور والا معاملہ ہے۔ شہزاد اکبر نے کہاکہ شہبازشریف اور ان کے بچوں کا معاملہ الگ الگ ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ بچوں کا معاملہ الگ ہے، شہباز شریف کے آمدن سے ہٹ کر اثاثے بھی ہیں، انہوں نے یہ پیسا منی لانڈرنگ سےبنایا ہے، یہ وہ کیس ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ نیا پنا کالا دھن سفید کرنے کی کوشش کی، شہباز شریف نے اپنی زوجہ کے اکانٹ کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جبکہ انہوں نے اس پیسے سے اپنی دوسری بیگم کو گاڑی، بنگلا خرید کر دیا۔انہوںنے کہاکہ چار افراد نے شہبازشریف کی منی لانڈرنگ میں معاونت کو قبول کرلیا ہے،شہبازشریف کے ذاتی ملازمین کی فرنٹ کمپنیاںہیں،شہبازشریف اپنی رٹ دہراتے جائیں گے کہ دھیلے کی کرپشن نہیں کی،شہبازشریف نے دھیلے کی نہیں اربوں کی کرپشن کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منظور پاپڑ والا آپ کی زوجہ کے اکائونٹ میں کیوں پیسے بھیجے گا، آپ نے منی لانڈرنگ کے پیسوں سے براہ راست فائدہ اٹھایا ہے، یہ پیسا آپ کا اپنا نہیں بلکہ یہ عوام کا حق مار کر بنایا گیا ہے اور جب لوگ آپ کے اکانٹ میں پیسے ڈال رہےہیں تو نیب آپ سے سوال تو کرے گی۔انہوں نے کہاکہ شہبازشریف کے مریم نواز کی پریس کانفرنس مجھے وکٹری سپیچ نظر آئی۔ انہوںنے کہاکہ ملزم جب عدالت سے گرفتار ہوتا ہے تو سپیکر کو اطلاع کردی جاتی ہے۔ ایک سوال انہوںنے کہاکہ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے بارے متنازعہ خبر کا جامع جواب دیا۔شہزاد اکبر نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے جب دیکھا کہ گرفتاری بنتی ہے تو شہبازشریف کی ضمانت مسترد کی، عدالت نے جب ضمانت کی درخواست مسترد کردی تو انہوں نے کہا کہ یہ نیب کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے، آپ کو کیا اب سلیکٹڈ فیصلے چاہئیں جو آپ کے حق میں ہوں؟۔قبل ازیںنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر شبلی فراز نے شبہاز شریف کی ضمانت مسترد ہونے سے متعلق فیصلے پر کہا کہ اس ملک میں اشرافیہ نے ایک قانون بنایا ہوا تھا کہ وہ قانون سے بالاترتھے اور جو عام پاکستانی ہے جس کی کوئی پہنچ نہیں اس پر قانون کا اطلاق ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی سیاست کا بنیادی سلوگن تھا کہ قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہیے اور ان لوگوں کو کٹہرے میں لانا چاہیے جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے اور ملک کے اداروں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔انہوںنے کہاکہ اس سے یہ ہوا کہ قومی مفاد قربان ہوئے اور ہم ایف اے ٹی ایفکی گرے اور بلیک لسٹ کی بحث میں پڑ گئے۔شبلی فراز نے کہا کہ یہ فیصلہ عدالت نے کیا ہے، ہم اس کا احترام کرتے ہیں عدالت انہیں بری بھی کرسکتی تھی تاہم اس میں ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، عدالت کا فیصلہ جس طرح بھی آتا ہم اس کی تائید اور احترام کرتے۔انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن سے یہی توقع رکھوں گا کہ وہ اپنی سیاست کے لیے انصاف فراہم کرنے والے اداروں کو متنازع نہ بنائیںاور قانون کا احترام کریں۔مریم اورنگزیب کی جانب سے لگائے گئے الزام پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ الزام اعلی عدلیہ پر لگایا ہے کیونکہ عدلیہ ہمارے تابع نہیں ہے، کئی فیصلے ایسے ہیں جو ان کے حق میں آئے ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آئے تو عمران خان نے کرایا ہے ، اگر حق میں آجائے تو یہ کسی اور نے کرایا ہے، اس طرح کی دوہری پالیسی نہیں ہونی چاہیے۔مسلم لیگ (ن)کی قیادت سنبھالنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی وہی قیادت کامیاب ہوگی جو بالکل شفاف ہو اور عوام میں قابل قبول ہو۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ میں نے شہباز شریف کی گرفتاری کا نہیں کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب کسی عدالت سے ریلیف ملتا ہے تو عدلیہ بہت اچھی ہے اور انہیں انصاف مل گیا تاہم جب اسی عدالت کی جانب سے ایکضمانت مسترد ہوتی ہے تو ان کی پارٹی کی ترجمان اسے نیب-نیازی گٹھ جوڑ کہتی ہیں، میرا سوال ہے کہ کیا یہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا، کیا یہ عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کر رہے؟انہوں نے کہا کہ عدالت نے ایک عبوری ضمانت دی تھی، عبوری ضمانت کے بعد دیکھا جاتا ہے کہ جو تحقیقاتی ادارہ آپ کو گرفتار کرنا چاہ رہا ہے اس کے وارنٹ قابل عمل ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ڈویژن بینچ نے کیس سننے کے بعد ضمانت مسترد کی لیکن اس کو سیاسی رنگ دینا اور اس طرح کے بیانات عدلیہ پر حملہ اور توہین عدالت بھی ہے۔دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ یہ کیس گزشتہ 4 ماہ سے چل رہا ہے، ان کے وکلا نے عدالتی نظیریں بھی پیش کیں، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس کیس کے میرٹ کو دیکھتے ہوئے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری مستردکردی جائے۔مشیر داخلہ نے کہا کہ ہر کیس اس کے میرٹس اور ملوث ملزمان کو دیکھ کر ہوتا ہے، کوئی ملزم اگر تفتیش پر اثر انداز ہو تو اسے بھی گرفتار کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کیس میں شہباز شریف کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے شواہد ہیں، ان اکانٹس کو استعمال کرکے براہ براست فائدہ اٹھانے کا، گاڑیوںکی کسٹم ڈیوٹیز اور دیگر اخراجات ادا کرنے کا جبکہ اس کے علاوہ آمدن سے زائد اثاثوں کا معاملہ ہے۔انہوںنے کہاکہ اس کیس میں ٹھوس شواہد ہونے کی وجہ سے لاہور ہائیکورٹ نے آج ان کی ضمانت مسترد کی ہے، یہ صرف بیان بازی کی حد تک یہ ہے کہ میرے بچوں کے معاملات کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کارٹرفارمولا

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎

جمی کارٹر امریکا کے 39ویں صدر تھے‘ یہ 1977ءسے 1981ءتک دنیا کی سپر پاور کے سربراہ رہے‘ یہ 1924ءمیں جارجیا کے چھوٹے سے گاﺅں پلینز میں پیدا ہوئے ‘ زمین دار فیملی کے ساتھ تعلق تھا‘ والد مونگ پھلی اگاتے تھے‘ جوانی میں نیوی جوائن کر لی‘ والد کے انتقال کے بعد کھیتی باڑی شروع کر دی‘یہ بھی ....مزید پڑھئے‎