جادو منتر کیساتھ تحریک انصاف کو فتح یاب قرار دیا گیا ،پاکستان کو سنگین خطرات کا سامنا ہے،فوج عوام کے بغیر ہائبرڈ وار نہیں جیت سکتی، احسن اقبال کا اہم اعلان

  اتوار‬‮ 27 ستمبر‬‮ 2020  |  0:43

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ پارٹی قائد محمد نواز شریف کا ہر لفظ اور جملہ پارٹی کیلئے مقدم ہے، پارٹی قائد کے وژن کو سیاسی ڈاکٹرائن سمجھتے ہیں، اے پی سی کے بعد حکومتی ایوانوں میں بھونچال آیا ہوا ہے ،اپوزیشن کی آواز کو دھمکیوں سے دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،جادو منتر کے ساتھ تحریک انصاف کو فتح یاب قراردیا گیا ،آج فاشسٹ ریاست ون پارٹی ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے لیکن پاکستان کو ون پارٹی اسٹیٹ نہیں بننے دیں گے،پاکستان کو آج سنگین خطرات کا سامنا


ہے، گلگت بلتستان کے انتخابات سے قبل پری پول دھاندلی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور حکومت شہباز شریف کو گرفتار کر انا چاہتی ہے تاکہ مسلم لیگ (ن) انتخابی مہم میں حصہ نہ لے سکے، اسی طرح حکومت کی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) کو باہر رکھنے کی خواہش ہے ،فوج عوام کی مدد کے بغیر ہائبرڈ وار نہیں جیت سکتی،حکومتی وزرا ء نے گلگت بلتستان کی میٹنگ کو سیاست کے لیے استعمال کیا اور قومی اداروں کو مشکلات میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پارٹی کے سیکرٹریٹ ماڈل ٹائون میں مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان آج دورائے پر کھڑا ہے ، اسے سنگین خطرات کا سامنا ہے ، 72سال میں ہم دس قدم آگے اور پندرہ قدم پیچھے گئے ہیں ، ہم جنوبی ایشیاء میں نمبر ون معیشت تھے ، معاشی گروتھ ہو رہی تھی ، ہمارا روپیہ سب سے مضبوط تھا لیکن آج ہم جنوبی ایشیاء میں کمزور ترین معیشت بن گئے ہیں ،2013ء سے 2018ء کے دوران ہم نے ملک کو درپیش مسائل کا حل کیا اور یہ دنیا کی تاریخ میںمثال ہے ،ملک میں 67سالوں میں صرف18میگا واٹ بجلی ہوئی جبکہ مسلم لیگ (ن) نے چار سالوںمین 11ہزار میگا واٹبجلی سسٹم میں شامل کر کے ورلڈ ریکارڈ بنایا ، 29ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے سی پیک کو زمین پر کھڑا کیا ، معیشت 3فیصد پر لاک ہو چکی تھی ، بھارت کے بارے میں دنیا میں ہندو گروتھ ریٹ کے الفاظ استعمال ہوتے تھے کہ یہ 2سے3فیصد سے اوپر نہیں جاتی جبکہ پاکستان کیمعیشت کیلئے اردو گروتھ ریٹ کے الفاظ ادا کئے گئے کہ یہ 3فیصد سے ترقی نہیں کر سکتی لیکن ہم نے اسے 5.8فیصد پر لا کھڑا کیا اور جنوری 2018ء میں ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2019-20ء میں پاکستان نے 6فیصد شرح سے ترقی کرنا تھی ۔آج پاکستان کی معیشت مائنس 1.4تک آ چکی ہے ۔ہم نے وسائل فراہم کئے اور پاک فوج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیحاصل کی ۔ہمارے دور حکومت کی جو کارکردگی تھی اگر افریقہ کے کسی کمزور ترین ملک کی بھی یہ کارکردگی ہوتی تو اسے دوبارہ انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوتی ۔ یہاںچیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں کیا کیا گیا ، حالیہ دنوں میںقومی اسمبلی میں اکثریت اقلیت میں بدل گئی ، پی ٹی آئی کو جادو منتر سے فتح یاب کرایا گیا ۔ ہم نے ملک کی قسمت بدلنے والے اقدامات اور فیصلے کیے۔سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت دوبارہ واپس آ جاتی ہے، خیبر پختوانخواہ میں تحریک انصاف حکومت بنا لیتی ہے لیکن پنجاب میں جہاں وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مثالی کارکردگی کامظاہرہ کیا وہاں مسلم لیگ (ن) واپس نہیں آتی ، ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے ہم سے ہمار ا حق چھین لیا گیا اور درگت بنا دی گئی ۔ موجودہ حکومت انتقام میں اندھی ہو چکی ہے اور فاشسٹ ریاست ون پارٹی ریاست کےایجنڈے پر کام کررہی ہے جسے ہم کسی صور ت تسلیم نہیں کرینگے ،اپوزیشن اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف نیب گردی کی نئی لہر برپا کر دی گئی، بد گمانی پھیلانے والے شر انگیزی سے کام لے رہے ہیں، وزرا ء غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وزرا ء اپنے بیانات سے بحران کو جنم دیتے ہیں۔ نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے ، ماہرین قانون کی جو تشریح کرتے ہیں جسے عدلیہ قانون سمجھتیہے اس کے برعکس نیب کے کالے قانون کو لاگو کر دیا گیا ہے اور اس کی کالی تشریح کو قانون سمجھا جاتا ہے ۔ ریفرنس دائر کر کے شہباز شریف کی گرفتاری کی کوششیں نیب گردی اور سیاسی دہشتگردی ہے ، اپوزیشن کا گلہ گھوٹنے اور آواز کو دبانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابات کا اعلان ہوتے ہی پری پول دھاندلی شروع کر دی گئی ہے ،مسلم لیگ (ن)نے گلگت بلتستان میں مثالی کارکردگی دکھائی ہے ، وہاں کے لوگوں کو امن ، گورننس اور حقوق دئیے ہیں لیکن مرکزی حکومت وہاں پر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے اور اپوزیشن کے ہاتھ ،پائوں باندھ کر گلی کو سُونا کرنا چاہتی ہے جہاں پر عمران خان اکیلا ناچتا پھرے ۔ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی کوشش دھاندلی کا آغاز کرنا ہے تاکہ مسلم لیگ (ن) کوآزادانہ انتخاباتمیں حصہ لینے سے روکا جاس سکے ، اگر پری پول دھاندلی کے ہتھکنڈے بند نہ کئے تو ہم اس کے خلاف بھرپو راحتجاج کریں گے۔ حکومت مسلم لیگ (ن)کی مقبولیت دیکھتے ہوئے شہباز شریف کو گرفتار کرانا چاہتی ہے ،شہباز شریف کو گرفتار کرنا سیاسی بدقسمتی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 51ہزار منتخب بلدیاتی نمائندوں کو برطرف کیا گیا اور اب دوبارہ بلدیاتی انتخابات میںدھاندلی سے اپنے لوگوںکو کامیاب کرانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اس کے لئے حکومت مسلم لیگ (ن) کے صدر کی گرفتاری کی صورت میں مسلم لیگ (ن) کو میدان سے باہر کرنے کی خواہش رکھتی ہے ۔ پاکستان کا قانون عمران خان نیازی اور نیب کی ذاتی جاگیر نہیں ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق کے مطابق فیصلہ کرے گی ۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے پوریملکی تاریخ میں عوام کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا، پنجاب کے ساتھ وسیم اکرم پلس حکومت کی صورت میں پنجاب سے انتقام لیا جا رہا ہے، وسیم اکرم پلس سوئنگ تو نہیں کر سکے الٹا ترقی کو ریورس کر دیاہے۔اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہم اے پی سی کی قیادت کے ساتھ مل کر جدوجہد جاریرکھیں گے، پی ڈی ایم کو فعال کرنے کے لیے قیادت کے درمیان مشاورت جاری ہے۔انہوںنے وزیر ریلوے شیخ رشید کے (ن)لیگ پر الزامات سے متعلق سوال پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا، آپ بھی انہیں سنجیدہ نہ لیں۔شہباز شریف کے کہنے پر ان کے ہمراہ گیا ،میری آرمی چیف کے ساتھ ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی، پارلیمانی رہنمائوں کی ملاقات میں گلگت بلتستانایشو پر بات ہوئی،حکومتی وزرا ء نے گلگت بلتستان کی میٹنگ کو سیاست کے لیے استعمال کیا اور قومی اداروں کو مشکلات میں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔انہوںنے کہاکہ عمران خان اور نیب کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ جیل سے ڈرنے والے نہیں،ہم پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں،ہمیں اب کسی حکومتی عہدے کی طلب نہیں، ہم اپنی اگلی نسل کو قائد اعظم والا پاکستان دے کر جانا چاہتے ہیں۔ہماگلی نسل کو لٹا پٹا نیب کا پاکستان نہیں دینا چاہتے ،آج بنگلہ دیش، بھارت،نیپال ہم سے آگے نکل گیا ہے،آرمی چیف کہ رہے ہیں ہمیں ہائبرڈوار کا سامنا ہے یہ جنگ فوج عوام کے بغیر اکیلے نہیں لڑ سکتی،ہائبرڈ وار میں عوام، معیشت، معاشرت، دفاع بھی اس کا نشانہ بنتے ہیں،عمران خان کی حکومت اس ہائبرڈ وار کا بنیادی ٹول بنی ہوئی ہے ،معیشت تباہ، قوم کی یکجہتی کو تباہ کر کے دشمنوںکی مدد کی جا رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ (ن)نے مشرف کے مارشل لا کا سامنا کیا، لیگی کارکن ملک بھر میں فولاد کی طرح ہر جگہ ڈٹے رہے کوئی اس جماعت کو نہ توڑ سکتا ہے اور نہ کمزور کر سکتا ہے ،ہم اے پی سی کی قیادت سے مل کر بھرپور جدوجہد کرینگے ،امید ہے کہ نیب کے غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات کا عدلیہ نوٹس لے گی اور شہباز شریف کو گرفتار کرنے کیکوشش ناکام بنائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں پر مقدمات قائم کرنے کی بھی مذمت کرتے ہیں ،عمران نیازی نے ہمیشہ اپنے محسن کو ڈسا ہے ،نواز شریف عمران خان کو فنڈز نہ دیتے تو شاید آج شوکت خانم ہسپتال نہ بنا ہوتا ،عمران خان نے اپنے کزن ماجد خان جو اسے کرکٹ میں لے کر آئے ان کا کیا حال کیا،ہم نے ہنستا بستا پاکستان دیا تھا، آج اتنے زیادہ قرضے لے کر ایک اینٹ تک نہیںلگا سکے ،آپ کے لئے ہوئے قرضے کون ادا کرے گا ؟،ہمارے دور کی ترقی تو بولتی ہے بجلی اور ادویات کے نرخوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے ورنہ ہم بھرپور احتجاج کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو نواز شریف کی تقریر سے خوشی نہیں بلکہ ملکی معیشت تباہ ہونے اور خارجہ پالیسی میں تنہا ہونے کی خوشی ہے ۔انہوں نے کہاکہ آرمی چیف سے سیاسی رہنمائوں کی ملاقات نہکرنے کا فیصلہ ہر جماعت کا اپنا اپنا ہو گا، قومی سلامتی کے ایشو پر عسکری قیادت سے ملاقاتیں معمول کا حصہ ہوتی ہیں لیکن وزرا ء نے ایسی ملاقاتوں کو آشکار کر کے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے ،ہر شہری سمیت ہر قومی اداروں کو اپنے اپنے حلف کی پاسداری کرنی چاہیے ہر کوئی اپنے عمل کا جوابدہ ہے، ہم ملک کو آئین کے مطابقچلانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے ،مسلم لیگ (ن)میں کوئی گروہ یا گروپ بندی نہیں ، اگر ہمیں مشرف کا مارشل ذبح نہیں کر سکا تو موجودہ دور میں کیا ہو سکتا ہے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو آپریشنل کرنے کے لئے مشاورت جاری ہے ،پی ڈی ایم اے پی سی کے اعلامیے پر مکمل عملدرآمد کے لئے لائحہ عمل جلد دے دینگے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎