طلال چوہدری کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ، رات کے3بجے جانے والا یہ نہیں کہہ سکتا میں تنظیم سازی کے لیے آیا ہوں، مریم نواز بھی فعال ہو گئیں

  ہفتہ‬‮ 26 ستمبر‬‮ 2020  |  21:33

لاہور/فیصل آباد( این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق وزیر مملکت طلال چوہدری تشدد سے زخمی ہو گئے ،ان کا کندھا اور بازو فریکچر ہوئے جن کا آپریشن کر دیا گیا، طلال چوہدری اپنی پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی کی رہائشگاہ کے باہر زخمی حالت میں پائے گئے ،ریکارڈنگ میں طلال چوہدری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ مجھے فون کر کے تنظیم سازی کےلئے بلایا گیا ،میرے اوپر تشدد کیا گیا اور ویڈیو بنائی گئی ،میرے موبائل فون، گھڑی اور دیگر سامان چھین لیا گیا ،وضاحتی بیان میں طلال چوہدری نے کہا


کہ مجھ سے متعلق ذرائع سے چلنی والی خبریں حقائق پر مبنی نہیں ،تفصیلی موقف جاری کروں گا ،واقعہ کا کسی خاتون رکن قومی اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں ،میڈیاخواتین سے متعلق خانگی نزاکتوں کا احساس کرے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے طلال چوہدری والے واقعے پر کہا ہے کہ رات کے3بجے جانے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تنظیم سازی کے لیے آیا ہوں،چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ اگر خاتون رکن اسمبلی قانونی مدد طلب کریں گی تو ان کا صیغہ راز میں رکھ کر قانونی مدد فراہم کریں گے۔ تفصیلا ت کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے رہنما طلال چوہدری کے ساتھ واقعہ 23ستمبر کی رات پیش آیا جس کے بعد انہیں زخمی حالت میں لاہور کے نجی ہسپتال داخل کرا دیا گیا۔ ایک نجی ٹی وی نے ان کے بھائی کے حوالے سے کہا کہ طلال چوہدری کو کنال روڈ پر نا معلوم افراد نے حملہ کر کے زخمی کیا اورانہیں معمولی چوٹیں آئی ہیں ۔ قبل ازیں ان کے گھر والوں کے حوالے سے یہ خبریں سامنے آئیں کہ طلال چوہدری گھر میں گرنے سے زخمی ہوئے اور ان کے کندھے پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق 23 ستمبر کو صبح 3 بجے عبداللہ گارڈن ٹائون فیصل آباد سے طلال چودھرینے پولیس کو مدد کیلئے 15 پر کال کی، چوکی نمبر 208 کی ٹیم کال پر فوری ایکشن کیلئے روانہ ہی ہوئی کہ ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی سمبلی نے بھی15 پر کال کردی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خاتون رکن اسمبلی نے پولیس کو فون پر کہا کہ میرے گھر کے باہر کچھ مشکوک لوگ ہیں اور میں خطرہ محسوس کررہی ہوں، کچھ ہی دیر میں پولیس موقع پر پہنچ گئی۔اس موقع پر (ن)لیگ کے دیگرکارکن اور رہنما عرفان نعمان بھی وہاں پہنچ چکے تھے، پولیس کچھ دیر میں پہنچی تو دیکھا طلال چوہدری زخمی حالت میں موجود تھے۔ذائع کے مطابق تشدد سے طلال چوہدری کا بازو اور کندھا ٹوٹ گیا ۔موقع پر پہنچنے والوں نے موبائل سے ریکارڈنگ بھی کی جس میں سنا جا سکتا ہے کہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ مجھے یہاں فون کر کے بلایا گیا اور میرا فون دیکھا جائے تو میری آخریلوکیشن یہیں کی ہے ، مجھے تین بار فون کرکے تنظیم سازی کیلئے بلایا گیا ، مجھے تشد د کا نشانہ بنایا گیا اور میری ویڈیو بھی بنائی گئی ، میرا موبائل فون ، گھڑی اور دیگر سامان بھی لوٹ لیا گیا ،سب گھر کی خواتین کے فون چیک کریں ۔ بعد ازاں پولیس کے اعلیٰ افسران بھی موقع پر پہنچ گئے ۔ طلال چوہدری کو طبی امدا دکے لئے لاہو ر کے نجی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے جہاں پر انکے بازو اور کندھے کا آپریشن کیا گیا ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا ہے کہ لیگی رہنما طلال چودھری کا معزز خاتون ایم این اے کو ہراساںکرنے کا واقعہ افسوسناک ہے۔ حکومت ایکشن لے گی اور خاتون کی ہر صورت حفاظت کرے گی۔ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اس واقعہ پر سخت ایکشن لیں گے اور غنڈہ گردی سے ہر صورت خاتون کی حفاظتکریں گے۔ فیصل آباد پولیس کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے اور معزز رکن اسمبلی کہ گھر پر پولیس سکیورٹی تعینات کریں اور قانونی کاروائی کریں۔ٹویٹر پر انہوں نے مزید لکھا کہ یہ واقعہ مسلم لیگ (ن)کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لاتا ہے،طلال چودھری مریم صفدر کے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی ہیں۔طلال چوہدری کی یہ حرکت مریم صفدر اور تمام مسلم لیگ ن کے لئے قابل شرمحرکت ہے،ماضی میں بھی خواجہ آصف ہوں یا طلال چوہدری خواتین بارے یہ نازیبا کلمات کہتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رات کے3بجے جانے والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تنظیم سازی کے لیے آیا ہوں،خواتین کو ہراساں کرنا معاشرے کا ایک رویہ بن گیا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمیں پتہ چلاہے کہ مریم صفدر بھی اس معاملے پرفعال ہو گئی ہیں، مریم صفدر معاملے کو رفع دفع کرنےکے لیے دونوں رہنمائوں پر دبائو ڈال رہی ہیں، پولیس کی ذمہ داری ہے کہ واقعے کی میرٹ پر تفتیش کرے اور کسی بھی دبا ئومیں نہ آئے۔معاون خصوصی شہباز گل نے کہا کہ طلال چوہدری کی یہ پرانی عادت ہے، (ن) لیگ اسی کلچر کو فروغ دیتی ہے، میری پولیس کے اعلی حکام سے بات ہوئی ہے، پولیس حکام نے تصدیق کی کہ طلال چوہدری نے پہلے فون کال کی تھی، فون کال سےمتعلق ون فائیو کے پاس ریکارڈ موجود ہے۔چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کسی بھی خاتون رکن پارلیمنٹ کو ہراساں کیا جانا انتہائی قابل افسوس ہے، لیگی خاتون رکن چاہیں تو نام صیغہ راز میں رکھ کر قانونی مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلال چوہدری کا ساتھی خاتون کو ہراساں کرنا قابل مذمت ہے،یہ واقعہ لیگی قیادت خصوصامریمنواز کیلئے شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے، مسلم لیگ (ن)کب طلال چوہدری کو پارٹی سے نکال باہر کرے گی۔ مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ میڈیا بھی ایسے لوگوں کو ٹاک شوز میں مدعو کرنے پر پابندی لگائے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما سابق وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا ہے کہ مجھ سے متعلق ذرائع سے چلنی والی خبریں حقائق پر مبنی نہیں ،واقعہ کے بارے میں تفصیلیموقف جاری کروں گا ،میڈیا سے درخواست ہے کہ میرے موقف کا انتظار کرے۔ طلال چوہدری نے اپنی وضاحت میں کہاکہ درخواست ہے کہ میرا موقف سامنے آنے تک ایسی خبریں نہ دی جائیں جن سے غلط فہمیاں اور رنجشیں پیدا ہوں ۔ واقعہ کا کسی خاتونرکن قومی اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں ،میڈیا سے درخواست ہے کہ خواتین سے متعلق خانگی نزاکتوں کا احساس کرے ،سب مائوں بہنوں بیٹیوں کی عزت اور وقار کا خیال رکھا جائے ،بعض حکومتی شرپسندوں کا واقعہ کو سیاسی رنگ دینا قابل مذمت ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎