اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

میرے والد کو کوئی گالی دے میں برداشت نہیں کرسکتا اور والدین کی عزت پر سوالیہ نشان تو ۔۔احتجاجا مستعفی پولیس آفیسر فہد افتخارورک نےسب کچھ بتا دیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی گالی’’او کھوتے دے پتر میں کیا پوچھ رہا ہوں اور توکیا بتا رہا ہے‘‘ پر احتجاجاً استعفی دینے والے پولیس آفیسر فہدافتخار ورک نے سب کھل کر بتا دیا۔ان کا کہنا ہے کہ میرے والد صاحب کو گالی دی گئی جو مجھے برداشت نہیں ہے ،میں اپنے والدین کی عزت پر سوالیہ نشان برداشت نہیں کر سکتا۔فہد افتخار ورک نے بتایا کہ 22 ستمبر کو

ایک اجلاس میں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ( سی سی پی او ) نے انہیں گدھے کا بچہ کہہ کر مخاطب کیا جس پر اپنی توہین محسوس کر تے ہو ئے مذکورہ افسر نے فوری طور پر محکمہ پولیس سے استعفیٰ دے دیا۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فہد ورک کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا مانیٹرنگ سیل کے انچارج اور سی سی پی او سمیت دیگر افسران کو بریف کر رہے تھے کہ اس دوران سی سی پی او نے انہیں گدھے کا بچہ کہتے ہوئے کہا کہ وہ پوچھ کچھ اور رہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے۔فہد افتخار ورک کا کہنا تھ اکہ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد اسکول ٹیچر تھے۔گزشتہ مارچ سے وہ سی سی پی او اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کی ویب سائٹ پر کام کر رہے ہیں۔ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سب انسپکٹر (ایس آئی) فہد افتخار ورک سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی جانب سے انہیں گدھے کا بچہ کہنے پر انتہائی دلبرداشتہ ہوگئے اور پولیس سروس سے استعفیٰ دیدیا۔امریکا سے ماحولیاتی کیمیا میں ایم فل کرنے والے فہد افتخار سی سی پی او اور دیگر حکام کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ تاہم سی سی پی او لاہور کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ واقعہ حقائق کے برخلاف اور من گھڑت کہانی ہے ، کسی افسر کی توہین نہیں کی گئی۔قومی موقر نامے جنگ کے مطابق ایک اعلیٰ تعلیمیافتہ سب انسپکٹر نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے خراب رویہ سے تنگ آکر پولیس کی ملازمت ہی کو خیر باد کہہ دیا ۔دو صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں سب انسپکٹر فہد افتخار ورک نے تحریر کیا کہ وہ پولیس کے محکمے میں مزید خدمات انجام نہیں دے سکتے ۔ رابطہ کر نے پر فہد افتخار ورک نے بتایا کہ 22 ستمبر کو

ایک اجلاس میں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ( سی سی پی او ) نے انہیں گدھے کا بچہ کہہ کر مخاطب کیا ۔اپنی توہین محسوس کر تے ہو ئے مذکورہ ایس آئی نے فوری طور پر محکمہ پولیس سے استعفیٰ دے دیا ۔ورک کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا مانیٹرنگ سیل کے انچارج اور سی سی پی او سمیت دیگر افسران کو بریف کر رہے تھے ۔اس دوران سی سی پی او نے انہیں گدھے کا بچہ کہتے ہو ئے کہا کہ وہ پوچھ کچھ اور رہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ۔فہد افتخار ورک نے کہا کہ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کے والد اسکول ٹیچر تھے ۔گزشتہ مارچ سے وہ سی سی پی او اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کی ویب سائٹ پر کام کر رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…