انصار عباسی کوسرکاری ٹی وی پر خاتون کی ورزش کرنے کی ویڈیو شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا ، سوشل میڈیا پر ناقدین اور حامی بھی آمنے سامنے

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  16:23

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی انصار عباسی کو پی ٹی وی کی ویڈیو شیئر کرنے پر شدید تنقید کا سامنا۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی کی طرف سے ٹوئٹرپر پی ٹی وی نیوز کی ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ایک خاتون کو ورزش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔جس کو ایک مرد کی طرف سے ہدایات بھی دی جارہی ہیں۔انصار عباسی نے ویڈیو کونا صرف شیئر کیا بلکہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان،وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم باجوہ کو بھی ٹیگ کیا،صحافی کی طرف سے ویڈیو شیئر کیے جانے پرچند سوشل میڈیا


صارفین نے انصار عباسی کی حمایت کی ، جن میں سے ایک محمد ندیم اعوان نے لکھا کہ جب پاکستان کے قومی اور نجی ٹی وی چینلوں پر اس طرح کے بے حیائی پروگرام چلائے جائیں گے تو معاشرے میں غلط کیسزبھی سامنے آئیں گے، ثابت ہوا کہ حکومتی سرپرستی میں منظم سازش کے تحت معاشرے کو تباہ کرنے کیلئے ایسے پروگرام چلائے جارہے ہیں۔عندلیب علی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ انصار عباسی کو یہ سب اس لیے برا لگ رہا ہے کیونکہ وہ قرآن پڑھتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول ۖ کے احکامات جانتے ہیں، البتہ جو دین کا علم نہیں رکھتے اور ایسی برائی کے عادی ہیں وہ تنقید ہی کریں گے۔کئی سوشل میڈیا صارفین نے انہیںشدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ٹوئیٹر صارف تراب علی شاہ نے لکھا کہ آپ کو شرم آنی چاہئے، آپ کو افغانستان ہجرت کرلینی چاہئے،سندھ اسمبلی کی سابق رکن ارم عظیم فاروقی نے سوال اٹھایا کہ ورزش کیے جانے میں کیا چیز غلط ہے؟ایک ٹوئٹر صارف سید اسد بخاری نے لکھا کہ ہیلو سر اس کو ورزش کہتے ہیں جو کہ آج کے دور میں بہت عام ہوچکی ہے، جس کو بہت سے انسان کرتے ہیں،مزید تفصیلات جاننے کیلئے گوگل سے رجوع کریں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎