ایسا لگتا ہے ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیوی سیلنگ کلب کے حوالے سے سی ڈی اے کو اہم حکم جاری

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  19:20

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے راول جھیل کے کنارے نیوی سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف کیس میں ریمارکس دیے کہ ایسا لگتا ہے کہ ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں اور قانون کی عملدراری یقینی بنانے کیلئے کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین کو بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کی۔ہفتہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رنیوی سیلنگکلب کی تعمیر اور نیول فارمز کے خلاف کیس کی سماعت کی۔سماعت میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین علی احمد پیش ہوئے جس پر جسٹس اطہر


من اللہ نے کہا کہ عدالت میں آپ کو بار بار طلب کرنا بڑا ناخوشگوار ہوتا ہے لیکن معاملہ سمجھنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ مکمل طور پر لاقانونیت ہے قانون تو کہیں پر نظر ہی نہیں آتا، ایسا لگتا ہے کہ ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں، جب بھی معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جاتا ہے تو چیزیں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔انہوں نے چیئرمین سی ڈی سے استفسار کیا کہ ماسٹر پلانرز میں زون تھری اور زون فور سے متعلق کیا پلان بنایا گیا تھا جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ زون فور کو ماسٹر پلان میں مکمل طور پر گرین ایریا رکھا گیا تھا۔چیئرمین سی ڈی نے بتایا کہ اسلام آباد میں جو زمینیں حاصل کی گئیں ان کے معاوضے آج تک بھی مکمل ادا نہیں کیے گئے۔چیئرمین سی ڈی نے کہا کہ 30 سالوں میں معاوضہ تو ادا نہیں کیا گیا لیکن فراڈ کی حوصلہ افزائی کی گئی، جعلی کاغذات بنائے گئے جس میں سی ڈی اے کے افسران بھی ملوث رہے۔چیف جسٹس سے دریافت کیا کہ کیوں ایف آئی اے اور آئی بی ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہیں، اسلام آباد کا جو بھی ایشو اٹھائیں اشرافیہ کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی نظر آتی ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین سی ڈی اے سے دریافت کیا کہ کیا آپ کا کوئی اہلکارنیول ہیڈ آفس میں چھاپہ مار سکتا ہے؟جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے جو ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں ملوث ہے وہ یہ کیسے روک سکتی ہے، مفادات کا ٹکراؤ ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ان چیزوں سے قانون پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کہا کہ آپ قانون پر عملدرآمد کرانے کے لیے متعلقہ اتھارٹی ہیں، جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اےایکشن لے رہا ہے کل میں نے ہاؤسنگ سوسائٹیز سے متعلق بھی بریفنگ لی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس کیس میں آپ قانون پر عملدرآمد نہیں کروا پا رہے، کیا آپ کوئی ایکشن لے سکتے ہیں، اس عدالت کو سچ بتائیں جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ یہ مشکل ہے میں اس بات کو مانتا ہوں لیکن ہم اپنی کوشش کریں گے۔چیئرمین سی ڈی نے بتایا کہ 1992 میں ماسٹر پلان میں ترمیم کر کےزون فور میں 20 کنال کے فارمز کی اجازت دی گئی۔عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے چیئرمین سی ڈی اے ہیں جو چیف کمشنر بھی رہ چکے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے، کیا ریونیو افسر بھی ان دونوں عہدوں کے ماتحت آتا ہے؟جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے جواب دیا کہ 2 چیئرمین سی ڈی اے چیف کمشنر بھی رہ چکے اور ریونیو افسر دونوں عہدوں کے ماتحت ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے زون 4کے رقبے کے بارے میں سوال کیا جس پر چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ زون فور پہلے 1600 کنال رقبے پر تھا اب 400 کنال باقی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ نے جائزہ لیا کہ 400 کنال رقبے کی پوری زمین موجود ہے، قبضہ تو نہی ہوا، کیا آپ کو معلوم ہے یہاں مافیا ہے؟چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد میں شاملات پر قبضہ کرنا بہت مشکل کام ہے، جب تک ریونیو اور پولیسدونوں شامل نہ ہوں قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے کہا کہ کیا آپ نے ضلعی عدالتوں کی حالت دیکھی ہے وہاں کوئی انسان جا نہیں سکتا، عام آدمی وہاں جاتے ہیں اس لیے ضلعی عدالتوں کا یہ حال ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اشرافیہ پر قانون نافذ نہیں ہوتا اس لیے وہ وہاں نہیں جاتے۔بعدازاں عدالت نے پاکستان نیول فارمز کی تعمیرات روکنے کے حکم اور راول جھیل کے کنارےنیوی سیلنگ کلب سیل کرنے کے حکم امتناع میں 26 ستمبر تک توسیع کردی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سی ڈی اے کو عدالتی حکم امتناع پر عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ٹیم بھیج کر چیک کریں اور رپورٹ پیش کریں۔ساتھ ہی ہدایت کی کہچیئرمین سی ڈی اے قانون کی عمل داری یقینی بنانے کا بیان حلفی جمع کرائیں اور کیسز کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کا حکم بھی دیا۔بعدازاں راول جھیل کے کنارے تعمیرات کے خلاف کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتہ 26 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎