قائمہ کمیٹیز میں ارکان پارلیمنٹ کی غیر حاضری کے باعث قومی خزانہ کو بھاری نقصان کا انکشاف

  ہفتہ‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2020  |  0:36

اسلام آباد(آن لائن)قائمہ کمیٹیز میں ارکان پارلیمنٹ کی غیر حاضری کے باعث قومی خزانہ کو بھاری نقصان کا انکشاف ہوا ہے،کراچی،لاہور،کوئٹہ اور دیگر شہروں سے افسران کی حاضری،ٹی اے ڈی اے اور سفری اخراجات پر لاکھوں روپے روزانہ خرچ ہونے لگے ہیں،سوال پوچھنےوالے ارکان پارلیمنٹ کی عدم حاضری پر ایجنڈا ملتوی کردیا جاتا ہے۔گزشتہ روز سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار اجلاس میں سینٹر سراج الحق کی جانب سے سی ای او سٹیل ملز سے سوال پوچھا گیا تھا جس کے پیش نظر مذکورہ سی ای او بریگڈئر ریٹائرڈ شجاع حسن مسلسل دو بار کراچی سے یہاں اسلام


آباد کمیٹی میں آئے مگر سوال پوچھنے والے سینٹر سراج الحق کمیٹی سے غیر حاضر رہے ،گزشتہ روز کمیٹی اجلاس میں مذکورہ آفیسر نے کہا کہ انکا اپنے سٹاف کے ہمراہ ایک وزٹ دو لاکھ روپے کے قریب پڑتا ہے اور میری کمیٹی سے درخواست ہے کہ وہ بریفنگ لے لیں اور اگلے اجلاس میں آنے سے معذرت قبول کر لی جائے ،اس انکشاف پر کمیٹی ارکان نے ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہوئے اظہار ندامت بھی کیا،مذکورہ آفیسر نے کہا کہ وہ کام کو چھوڑ کر کراچی سے اسلام آباد اپنے سٹاف کے ساتھ آتے ہیں لیکن معزز سینٹر موجود نہیں ہوتے ہیں،واضع رہے کہ روزمرہ کی کمیٹیوں میں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ متعدد افسران کمیٹیوں سے غیر حاضر رہتے ہیں اور ملک بھر سے افسران انکے سوالوں کاجواب دینے پہنچ جاتے ہیں اور ا سکا بوجھ قومی خزانہ پر پڑ رہا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎