ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر ماہا علی کے بعد ایک اور لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ خوفناک واقعہ

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی( آن لائن )کراچی میں مردہ حالت میں ملنے والی خاتون سرجن کو مارے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او ماڈل تھانہ فیروز آباد انسپکٹر اورنگزیب خٹک کا کہنا ہے کہ 4 ستمبر کو بہادرآباد کے علاقے شبیر آباد میں واقع بنگلے سے 60 سالہ ڈاکٹر امت اللہ شیخ دختر غلام عباس کی 2 روز پرانی لاش کمرے کے قالین سے ملی تھی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے

پر انکشاف ہوا کہ لیڈی ڈاکٹر امت اللہ شیخ کو گلا دبا کر ماراگیا تھا۔وہ غیر شادی شدہ اور ایک ہزار گز کے بنگلے کی پہلی منزل پر تنہا رہائش پذیر تھیں جب کہ گرائو نڈ فلور پر ان کی خالہ زاد بہن اپنے بیٹے کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔وہ مختلف اسپتالوں میں بطور سرجن کام کرتی رہیں ہیں۔اور جس مکان میں وہ رہائش پذیر تھیں اس کے ساتھ والا ایک ہزار گز کا خالی پلاٹ بھی انہی کی ملکیت تھا۔اس کے علاوہ ان کی جائیدادیں بھی بتائی گئی ہیں۔شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں جائیداد کے تنازعے پر مارا گیا ہے۔ فیروز آباد پولیس نے بہادرآباد کے بنگلے سے لیڈی ڈاکٹر ملنے والی لاش کا مقدمہ درج کر کے ان کے قریبی رشتے دار کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔پولیس نے مقدمہ ڈاکٹر کی کلاس فیلو ڈاکٹر ہمایوں بشیر کی مدعیت میں درج کیا ہے۔خاتون ڈاکٹر کے قریبی رشتے داروں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ان کے مارے جانے کی وجہ اور اس میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا لیا جائے گا۔دوسری جانب جیکب آبا د کی عدالت نے گلا دبا کر عورت کو مارنے کا الزام ثابت ہونے پر دو بھائیوں کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔بتایا گیا ہے کہ جیکب آباد کے سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج و جڈیشل مجسٹریٹ غلام علی کناسرو کی عدالت نے مسمات نصیباں کو میکے جانے کی معمولی بات پر گلہ دبا کر مارنے کا جرم ثابت ہونے پر دو بھائیوں عبدالستار اور سلطان ولد کنڈو کو عمر قید اور

تین لاکھ جرمانے کی سزا سنادی جرمانے کی رقم مرحومہ کے ورثہ کو ادا کی جائے کی ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزمان کو مزید چھ ماہ قید کاٹنا ہو گی یاد رہے کہ صدر تھانے کی حدو د میں مئی 2018میں عبدالستار نے اپنے بھائی کی مدد سے اپنی بیوی نصیباں کو مارا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…