ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹر ماہا علی کے بعد ایک اور لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ خوفناک واقعہ

datetime 19  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی( آن لائن )کراچی میں مردہ حالت میں ملنے والی خاتون سرجن کو مارے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او ماڈل تھانہ فیروز آباد انسپکٹر اورنگزیب خٹک کا کہنا ہے کہ 4 ستمبر کو بہادرآباد کے علاقے شبیر آباد میں واقع بنگلے سے 60 سالہ ڈاکٹر امت اللہ شیخ دختر غلام عباس کی 2 روز پرانی لاش کمرے کے قالین سے ملی تھی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے

پر انکشاف ہوا کہ لیڈی ڈاکٹر امت اللہ شیخ کو گلا دبا کر ماراگیا تھا۔وہ غیر شادی شدہ اور ایک ہزار گز کے بنگلے کی پہلی منزل پر تنہا رہائش پذیر تھیں جب کہ گرائو نڈ فلور پر ان کی خالہ زاد بہن اپنے بیٹے کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں۔وہ مختلف اسپتالوں میں بطور سرجن کام کرتی رہیں ہیں۔اور جس مکان میں وہ رہائش پذیر تھیں اس کے ساتھ والا ایک ہزار گز کا خالی پلاٹ بھی انہی کی ملکیت تھا۔اس کے علاوہ ان کی جائیدادیں بھی بتائی گئی ہیں۔شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں جائیداد کے تنازعے پر مارا گیا ہے۔ فیروز آباد پولیس نے بہادرآباد کے بنگلے سے لیڈی ڈاکٹر ملنے والی لاش کا مقدمہ درج کر کے ان کے قریبی رشتے دار کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔پولیس نے مقدمہ ڈاکٹر کی کلاس فیلو ڈاکٹر ہمایوں بشیر کی مدعیت میں درج کیا ہے۔خاتون ڈاکٹر کے قریبی رشتے داروں سے بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ان کے مارے جانے کی وجہ اور اس میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا لیا جائے گا۔دوسری جانب جیکب آبا د کی عدالت نے گلا دبا کر عورت کو مارنے کا الزام ثابت ہونے پر دو بھائیوں کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔بتایا گیا ہے کہ جیکب آباد کے سیکنڈ ایڈیشنل سیشن جج و جڈیشل مجسٹریٹ غلام علی کناسرو کی عدالت نے مسمات نصیباں کو میکے جانے کی معمولی بات پر گلہ دبا کر مارنے کا جرم ثابت ہونے پر دو بھائیوں عبدالستار اور سلطان ولد کنڈو کو عمر قید اور

تین لاکھ جرمانے کی سزا سنادی جرمانے کی رقم مرحومہ کے ورثہ کو ادا کی جائے کی ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزمان کو مزید چھ ماہ قید کاٹنا ہو گی یاد رہے کہ صدر تھانے کی حدو د میں مئی 2018میں عبدالستار نے اپنے بھائی کی مدد سے اپنی بیوی نصیباں کو مارا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…